Updated: July 28, 2026, 2:58 PM IST
| Thiruvananthapuram
کیرالا حکومت نے آر ایس ایس کے نظریاتی لیڈر ٹی جی موہن داس کے اس متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ان کے پاس اختیار ہوتا تو وہ دہلی کے جنتر منتر میں احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوان مظاہرین کو ’’پوائنٹ بلینک رینج‘‘‘ سے گولی مار دیتے۔
ٹی جی موہن داس۔ تصویر: آئی این این
کیرالا حکومت نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے نظریاتی لیڈر اور دائیں بازو کے سیاسی مبصر ٹی جی موہن داس کے ایک متنازع بیان پر پولیس تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب سوشل میڈیا پر ان کا ایک ویڈیو بیان بڑے پیمانے پر وائرل ہوا، جس میں انہوں نے دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ احتجاج کے بارے میں کہا کہ اگر ان کے پاس اختیار ہوتا تو وہ وہاں کرفیو نافذ کرتے اور مظاہرین کو ’’پوائنٹ بلینک رینج‘‘ سے گولی مار دیتے۔ رپورٹس کے مطابق ٹی جی موہن داس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’’اگر میں اقتدار میں ہوتا تو جنتر منتر کے اطراف کرفیو نافذ کر دیتا۔ جو بھی نوجوان یا طالب علم وہاں احتجاج کر رہا ہوتا، میں اسے پوائنٹ بلینک رینج سے گولی مار دیتا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کیرالا: مَیں ہوتا تو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دیتا: آر ایس ایس لیڈر کا متنازع بیان
ان کے اس بیان کے بعد کیرالا میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (AISF) نے موہن داس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے عوامی طور پر مظاہرین کے قتل پر اکسانے والا بیان دیا ہے۔ شکایت کے بعد کیرالا حکومت نے پولیس کو معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔ اسکرول کے مطابق ریاست کی حکمران جماعت کانگریس نے بھی اس بیان کی سخت مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ’’ایسے نفرت پھیلانے والے لوگوں‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کسی بیان سے تشدد پر اکسانے یا امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی قانونی جانچ ضروری ہے۔
دوسری جانب ٹی جی موہن داس نے بعد میں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بات کا انگریزی ترجمہ اور سیاق و سباق درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے الفاظ کو اصل مفہوم سے ہٹا کر پیش کیا گیا، جس کے باعث تنازع پیدا ہوا۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں NEET کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کی تحریک کے دوران متعدد ریاستوں میں پولیس کارروائیاں بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہلی کے جنتر منتر احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال، ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کی جانب سے پیلٹ گن چلانے کی تحقیقات، اور بہار کے سیوان میں ایک پولیس اہلکار کی AK-47 سے فائرنگ کے واقعات بھی قومی سطح پر زیر بحث رہے ہیں۔ ان واقعات پر مختلف عدالتوں اور متعلقہ اداروں میں الگ الگ تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کون ہیں محمد عرفان جن سے ملنے راہل گاندھی اُن کی جھوپڑی میں گئے
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اصل سوال یہ ہوگا کہ آیا بیان ہندوستانی قانون کے تحت نفرت انگیزی، تشدد پر اکسانے یا عوامی امن کو متاثر کرنے کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ پولیس تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ موہن داس کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج کیا جاتا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب موہن داس اپنے بیان کو غلط انداز میں پیش کیے جانے کا مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہیں۔