طالبان جنگجو اور ایرانی فوج کے درمیان سرحد پر جھڑپیں

Updated: December 03, 2021, 10:37 AM IST | kabul

ایرانی باشندوں کے افغانستان کے علاقےمیں داخل ہونے پر تنازع، دونوں جانب سے فائرنگ، کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں۔ دونوں ہی ممالک نے ان جھڑپوں کو ’غلط فہمی‘ کا نتیجہ قرار دیا۔ اعلیٰ سطح پر مفاہمت کے بعد حالات کنٹرول میں۔ آئندہ صورتحال خراب نہ ہو اس کیلئے ہدایات جاری

Iran and Afghanistan have no clear border, this is how people come and go in many places (file photo)
ایران اور افغانستان کی کوئی واضح سرحد نہیں ہے ، کئی مقامات پر لوگ یوں ہی آتے جاتے ہیں (فائل فوٹو)

افغانستان میں حال ہی میں اقتدار میں آنے والی تنظیم طالبان اور اس کے پڑوسی ملک کے ایران کی فوج کے درمیان سرحد پر جھڑپیں ہوئیں۔ ہر چند کے دونوں ہی جانب سے لڑائی کی  کوئی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی نہ ہی اموات اور زخمی ہونے والوں کی تعداد بتائی گئی لیکن دونوں ہی جانب کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی یہ ایک غلط فہمی کی وجہ سے یہ لڑائی شروع ہوئی۔ 
  اگر مقامی میڈیا کی بات تسلیم کی جائے تو سرحد پر ایرانی فوج پاسداران انقلاب  نے افغانستان کی کچھ چوکیوںپر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد طالبان جنگجوئوں نے ان فوجیوں پر فائرنگ کر دی۔  ذرائع کے مطابق اب حالات معمول پر ہیں یعنی ایرانی فوجیوں نے ان چوکیوں کو خالی کر دیا ہے  اور افغان جنگجو بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔  مقامی سطح پر جو ویڈیو سامنے آئے ہیں ان میں دونوں ہی طرف سے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق طالبان نے یہاں کے مکینوں کو علاقہ خالی کر دینے کی ہدایت دی تھی اور بڑے پیمانے پر سیکوریٹی فورس کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ لڑائی افغانستان کے صوبے نمروز کے کنج علاقے میں ہوئی جو کہ ایک سرحدی علاقہ ہے، یہاں  سے اب تک منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ انسانی اسمگلنگ بھی   ہوا کرتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسی گزرگاہ سے ہوتے ہوئے ایران میں داخل ہوئے تھے اور وہاں سے دیگر ممالک کی طرف چلے گئے تھے۔
  طالبان نے اقتدار سنبھال لینے کے بعد اس گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔ لیکن یہاں کوئی واضح سرحد نہیں ہے جس کی وجہ سے  یہ معلوم کرنا مشکل ہے کس ملک کا علاقہ کہا تک ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ حالیہ جھڑپ اسی غلط فہمی کے سبب ہوئی ہے۔   طالبان کے ترجمان اور نائب وزیر خارجہ ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کی وجہ سے صوبۂ نمروز کی سرحد پر تنازع ہوا تھالیکن دونوں جانب کی مفاہمت سے اب صورتِ حال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت نے آئندہ اس طرح کی صورتِ حال سے بچنے کیلئے خصوصی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ہدایات کس طرح کی ہیں۔
 ادھر ایران کی جانب سے بھی اس جھڑپ کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا کہ ’’ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہائشیوں کی آمد ورفت کے سبب کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی تھی جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو ا تھا لیکن اب سرحد پر حالات معمول کے مطابق ہیں۔  جہاں تک سوال ہے رہائشیوں کی ’آمدورفت‘ کی تو مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران سے کچھ لوگ سرحد پار کرکے افغانستان کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ جبکہ بعض ذرائع نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ ایرانی فوجیوں نے ان علاقوں میں چوکیاں بنالی تھیں  ، فائرنگ کے بعد جن پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔ حالانکہ ایران کی جانب سے سرکاری سطح پرا س خبر کی نفی کی گئی ہے۔  یاد رہے کہ ایران یوں تو روس ، چین اور پاکستان کے اس گروہ میں شامل ہے جو طالبان حکومت کے لئے نرم رویہ رکھتے ہیں لیکن طالبان کے اقتدار میں آنےکے بعد سے ایران  اور طالبان کے درمیان کسی نہ کسی بات پر اختلاف سامنے آتے رہے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں طرف سے طاقت آزمائی کا ایک   بہانہ تھیں۔

taliban Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK