عازمین نے وہاں کے دشوار کن حالات بتائے اور توجہ دلانے کے باوجود کسی قسم کا تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا، مسائل کی نشاندہی کرنے والے عازمین پر دباؤ ڈالنے کا بھی الزا م، عازمین نے درخواست کی کہ ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ یکسوئی کےساتھ حج کے ارکان ادا کرسکیں۔
اسلام آباد ہوٹل جہاں متعدد عازمین ٹھہرے ہوئے ہیں- تصویر:آئی ا ین این
ممبئی:عزیزیہ میں ٹھہرائے گئے عازمین حج کو کھانے پینے کی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہوٹل والوں کی من مانی قیمت زیادہ وصول کرنے اور کھانے کا معیار بہتر نہ ہونے کےساتھ حج کمیٹی اورقونصل جدہ کے عملہ اور حج انسپکٹرز (جو پہلے خادم الحج کہلاتے تھے) کی جانب سے تعاون نہ کئے جانے کی شکایتیںبھی موصول ہورہی ہیں۔
یادر ہےکہ اس دفعہ سعودی حکومت کی جانب سے عمارتوں میںکھاناپکانے پرپابندی لگادی گئی ہے اس لئے عازمین کیلئے ہوٹلوں کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیںہے۔ عزیزیہ میں مقیم عازمین نے تفصیلات سے آگاہ کرایا اور یہ درخواست کی کہ ان کی مدد کی جائے تاکہ کسی صورت یہ مسئلہ حل اوروہ یکسوئی کےساتھ حج کے ارکان ادا کرسکیں۔
عازمین کی کیا کیا دقتیں بتائیں
کچھ عازمین نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اولڈ عزیزیہ میں جہاں انہیں ٹھہرایا گیا ہے وہاں ۲۲؍ عمارتیں ہیں اور اس میں تقریبا ۹؍ ہزار حاجی قیام پزیرہیں۔ ۱۵۸؍ نمبر کی عمارت میں ۱۲۵۰؍عازمین مقیم ہیں۔ امسال کھانا بنانے کی سعودی حکومت کی اجازت نہیں ہے۔ حاجیوں کے گروپ جس میں الگ الگ معلومات فراہم کرائی جاتی ہے ، اس میں بتایا گیا کہ اگر عازمین کو ضرورت ہوگی تو وہاں کیٹرر مل جائے گا۔عازمین نے اپنے طور پر کیٹررس سے رابطہ بھی قائم کیا ، اس نے کہاکہ ہم پارسل دے دیں گے جبکہ مذکورہ عمارت میں نیچے کافی جگہ ہے جہاں عازمین کھانا کھاسکتے ہیں ۔ اس کی تفصیل حج انسپکٹر کو دی گئی تو انہوںنے بتایا کہ بات چیت کرتے ہیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ عازمین کے مطابق اسی بلڈنگ کے نیچے اسلام آباد ہوٹل ہے جس میں سڑے ہوئے ٹماٹر اورکھانے کی کوالیٹی بہترنہ ہونے پر ایک عازم نےویڈیو بنالیا تو ہوٹل والے نےان کے ساتھ نامناسب رویہ اپنایاجس پر دیگرعاز مین برہم ہوگئے، اس پر ہوٹل والےنے اپنی غلطی تسلیم کی اورمعذرت کی ۔
اس تعلق سے وہاں نگرانی کرنے والے معصوم پٹیل کو بتایا گیا ،انہوں نے بھی ہوٹل والے سے بات چیت کی۔ اس تعلق سے ایک اور ذمہ دار علی ظہیر نے یقین دلایا کہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر عازمین کا کہنا ہے کہ ۳؍ دن گزر جانے کےباوجود کچھ نہیں کیا گیا، مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس سے یہ اندیشہ ہےکہ کہیںعازمین بیمار نہ پڑ جائیں۔ عازمین کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ان مسائل کی نشاندہی میںجو عازمین پیش پیش ہیں، حج انسپکٹر کے ذریعے ان کے نمبرات اور دیگر تفصیلات بھی مانگی جارہی ہیں تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جائے اور وہ شکایات سے بازر ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن ا ور اسمارٹ واچ کا بھی مسئلہ
اسی طر ح کچھ عازمین نے ٹرانسپورٹیشن کی دشواری بھی بتائی۔ اس کے علاوہ کئی عازمین نے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے مہیا کرائی گئی اسمار ٹ واچ کی بیٹری جلد ختم ہونے اوراس کے ذریعے اَپ ڈیٹ نہ ملنے کی بھی شکایت کی ۔ ایک معمرعازم حج نے تو باقاعدہ حرم پاک سے اسمارٹ واچ کی ناقص بیٹری کی شکایت کی اوریہ بتایا کہ ان کی اہلیہ بچھڑ گئیںمگران کا پتہ لگانے میںاس گھڑی سے کوئی مدد نہیں ملی ۔
حج کمیٹی کے ایک افسر نےانقلاب کوبتایا کہ ’’ سعودی عرب پہنچ جانے کےبعد چونکہ انتظامات اور نگرانی کا عمل قونصل جنرل اور ان کے عملہ کے توسط سے کیا جاتا ہے، عازمین کی شکایات ان تک پہنچائی جاتی ہیںاورحج کمیٹی کے عملہ کی جانب سے بھی کوشش کی جاتی ہے کہ عازمین کی شکایات کاازالہ کیاجاسکے اور وہ آسانی کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوسکیں۔‘‘