Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب

Updated: April 30, 2026, 7:09 PM IST | New York

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے برطانوی بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات سے قبل کوہِ نور ہیرے کی واپسی کا ذکر کر کے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ نائن الیون میموریل پر مختصر ملاقات کے باوجود ان کا یہ بیان تیزی سے وائرل ہوا، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آئے۔ یہ معاملہ ایک بار پھر نوآبادیاتی ورثے اور تاریخی نوادرات کی واپسی کے عالمی مطالبات کو اجاگر کر رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے نیویارک دورے کے موقع پر ایک غیر متوقع سیاسی بیان نے عالمی توجہ حاصل کر لی، جب نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کوہِ نور ہیرے کی واپسی کا ذکر کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بادشاہ سے کیا کہیں گے، تو انہوں نے کہا کہ ’’اگر میں بادشاہ سے بات کروں تو میں شاید اسے کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی ترغیب دوں گا۔‘‘ یہ بیان فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور اس نے نوآبادیاتی تاریخ، ثقافتی ورثے اور تاریخی نوادرات کی واپسی کے موضوع کو دوبارہ بحث کا مرکز بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ، اسرائیل کو سخت انتباہ: معاوضہ نہ ملا تو ’’باہمی کارروائی‘‘ ممکن

میئر ممدانی نے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا سے نیویارک کے نائن الیون میموریل پر ملاقات کی، جہاں دونوں لیڈروں نے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر سفید پھول چڑھائے گئے اور متاثرہ خاندانوں، فائر فائٹرز اور پولیس اہلکاروں سے ملاقات بھی کی گئی۔ سٹی ہال کے مطابق ملاقات مختصر رہی اور صرف رسمی گفتگو تک محدود تھی۔ حکام نے بتایا کہ دونوں لیڈروں کے درمیان ’’خوشگوار تبادلہ خیال‘‘ ہوا، تاہم تفصیلات عوامی طور پر شیئر نہیں کی گئیں۔ یہ دورہ تقریباً دو دہائیوں میں چارلس سوم کا نیویارک کا پہلا دورہ تھا، اس سے قبل وہ ۲۰۰۷ء میں ملکہ ایلزبیتھ دوم کے ہمراہ شہر آئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: پوتن اور ٹرمپ کی ۹۰ منٹ طویل بات چیت؛ ایران جنگ بندی، یوکرین میں صلح اور سلامتی خدشات پر گفتگو

کوہِ نور اور تاریخی تنازع
کوہِ نور ہیرا، جو آج ’’ٹاور آف لندن‘‘ میں رکھا گیا ہے، برصغیر سے تعلق رکھنے والا ایک تاریخی جواہر ہے۔ ناقدین اسے نوآبادیاتی دور کی ’’علامت‘‘ قرار دیتے ہیں اور اس کی واپسی کا مطالبہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ ممدانی کے بیان نے اس دیرینہ مطالبے کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کر دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی ممالک اپنے ثقافتی نوادرات کی واپسی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

میئر کے بیان پر امریکی سیاسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ ریپبلکن اسٹریٹجسٹ کین فرائیڈمین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیویارک سٹی کے موجودہ میئر کو انگلینڈ کے بادشاہ کے دورے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی… انہیں پرجوش استقبال کرنا چاہیے تھا، نہ کہ ہچکچاہٹ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم تاریخ جانتے ہیں… کوئی بھی استعمار کو نہیں بھولا۔‘‘ اسی طرح سابق میئر کے مشیر جارج آرزٹ نے کہا کہ ’’ممدانی کو شاہی خاندان کو گریسی مینشن مدعو کرنا چاہیے تھا… انہوں نے روایت کی پیروی کرنے کا موقع گنوا دیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، ۵۰؍ کشتیاں ضبط، ۴۰۰؍ رضاکار حراست میں؛ ترکی، اسپین نےاسے’’قزاقی‘‘ کہا

واضح رہے کہ نیویارک میں برطانوی شاہی خاندان کے استقبال کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ ماضی میں فیریلو لا گارڈیا اور مائیکل بلومبرگ جیسے میئرز نے شاہی مہمانوں کے لیے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے برعکس، ممدانی نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ ملاقات کو محدود رکھیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’میں صرف پھول چڑھانے کی تقریب میں شرکت کروں گا… اور یہی بادشاہ سے میری ملاقات کی حد ہوگی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK