بطور احتجاج اور طنز سوشل میڈیا پر بننے والی پارٹی نوجوانوں کی تحریک میں بدل رہی ہے، سونم وانگ چک نے حمایت کا اعلان کیا۔
سورو داس اور وجیتا دہیتا۔ تصویر:آئی این این
چیف جسٹس آف انڈیا کے تبصرہ کے بعدبطوراحتجاج اور طنز سوشل میڈیا پر قائم ہونےوالی کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) نوجوانوں کی حقیقی تحریک بنتی جارہی ہے۔ ۶؍ جون کو اس کے بانی ابھیجیت دِپکے کی ہندوستان آمد اور جنتر منتر پر احتجاج سے قبل بدھ کو پارٹی کے ۳؍ ترجمانوں کی تقرری کردی گئی۔ طنزیہ جماعت کی جانب سے بدھ کو کئے گئے ایک ایکس پوسٹ میں اعلان کیاگیاہےکہ تحقیقی صحافت کرنےوالے سورو داس، مصنف اور فلمساز وجیتا دہِیا اورآئی آئی ٹی کانپور سے پاس آؤٹ آشوتوش رانکا پارٹی کے ترجمان ہوںگے۔ دپکے نے اعلان کیا ہے کہ سوروداس چیف ترجمان ہوںگے۔ سی جی پی نے کہاہے کہ وہ ہندوستان کے سیاسی بیانیے کو تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہے جس کی قیادت نئی نسل کے لیڈر کریں گے۔
سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کسی خاتون کو ترجمان کیوں نہیں بنایا گیا۔ اس پر ابھیجیت دپکے نے وضاحت کی کہ پارٹی نے خاتون اراکین کو ترجمان بننے کی پیشکش کی تھی مگر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نمایاں عوامی کردار کے بجائے پس پردہ رہ کر سرگرم رہنےکو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ان کے فیصلے کا احترام کرتی ہے، تاہم وہ ایسی نوجوان خواتین کو دعوت دیتی ہے جو تحریک کا حصہ بننا چاہتی ہوں اور بطور ترجمان آگے آنے کیلئے تیار ہوں۔ اس بیچ لداخ کے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک نے اعلان کیا ہے کہ اگر دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ ۶؍ جون کو سی جے پی کے احتجاج میں شامل ہوںگے۔