بانی ابھیجیت دپکے کاہندوستان واپسی کافیصلہ ، نیٹ کے ۲۲؍ لاکھ، سی بی ایس ای کے ۱۷؍ لاکھ، سی یو ای ٹی کے ۱۶؍ لاکھ اور ایس ایس جی ڈی کے ۴۰؍ لاکھ طلبہ کیلئے انصاف اور ان کی پریشانیوں کیلئے جوابدہی طے کرنے کا اعلان
EPAPER
Updated: June 02, 2026, 8:52 AM IST | New Delhi
بانی ابھیجیت دپکے کاہندوستان واپسی کافیصلہ ، نیٹ کے ۲۲؍ لاکھ، سی بی ایس ای کے ۱۷؍ لاکھ، سی یو ای ٹی کے ۱۶؍ لاکھ اور ایس ایس جی ڈی کے ۴۰؍ لاکھ طلبہ کیلئے انصاف اور ان کی پریشانیوں کیلئے جوابدہی طے کرنے کا اعلان
بیروزگار نوجوانوں کے تعلق سے چیف جسٹس سوریہ کانت کے تبصرہ کے خلاف بطور احتجاج طنزیہ طور پر سوشل میڈیا پر بننے والی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ (سی جے پی) اب زمین پر اترنے جارہی ہے۔ سی جے پی کے بانی ابھجیت دِپکے نے پیرکو اعلان کیا کہ وہ امریکہ میں ملازمت کی کئی پیشکشوں کو ٹھکرا کر ۶؍ جون کو ہندوستان واپس آ رہے ہیں۔ انہوں نے تمام ’’کاکروچوں‘‘ سےنئی دہلی ہوائی اڈہ پر پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنتر منتر پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کیلئے ایک پُرامن احتجاج کیا جائےگا۔ ’سی جے پی ‘ کے قیام کے بعد ابھیجیت دپکے کا ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔
انہوں نے احتجاج کا اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب انسٹا گرام پر ان کی پارٹی کے حامیوں کی تعداد ۲؍ کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایکس پر پوسٹ کئے گئے ایک ویڈیو پیغام میں دِپکے نے کہا ہے کہ ’’میں نے ہندوستان واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے ۔میں اپنے ملک، اپنے گھر ہندوستان واپس آ رہا ہوں تاکہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر سکوں۔ آپ کئی دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا پر آواز اٹھا رہے ہیں کہ نیٹ پیپر لیک،متعدد طلبہ کی خود کشی اور لاکھوں کی محنت ضائع ہونے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہیے۔‘‘ دِپکے جن کا تعلق اورنگ آباد(مہاراشٹر ) سے ہے، نے کہا ہے کہ ’’وقت آ گیا ہے کہ ہم سب آئین ہند پر چلتے ہوئے پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کریں۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’ اگر ہم سب مل کر آواز اٹھائیں گے تو انہیں ہماری بات سننی ہی پڑے گی۔‘‘
نیٹ پیپر لیک تنازع اور سی بی ایس ای امتحان کے نتائج سے متعلق مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے دپکے نے الزام لگایا کہ ایک کروڑ سے زائد طلبہ نظام کی ناکامی کا شکار ہوئے ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ ایک کروڑ کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’آج نیٹ کے۲۲؍لاکھ ، سی بی ایس ای کے۱۷؍لاکھ ، سی یو ای ٹی (یونیورسٹی میں داخلہ کا ٹیسٹ )کے۱۶؍لاکھ اور ایس ایس سی جی ڈی(اسٹاف سلیکشن کمیشن جنرل ڈیوٹی ) امتحان کے ۴۰؍ لاکھ طلبہ، یعنی ایک کروڑ سے زیادہ طلبہ کی زندگیوں کا مذاق بناکر رکھ دیاگیا ہے۔ اسی وجہ سے طلبہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند اور پریشان ہیں۔ کسی نہ کسی کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی