Updated: June 01, 2026, 10:06 PM IST
| Hubli
کرناٹک میں حجاب سے متعلق حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ہندوتوا تنظیم سری رام سین کے کارکنوں نے ہبلی کے مختلف کالجوں میں طلبہ کے درمیان زعفرانی شالیں تقسیم کیں اور اسے حجاب کی اجازت کے خلاف احتجاج قرار دیا۔ یہ پیش رفت کانگریس حکومت کی جانب سے ۲۰۲۲ء میں بی جے پی حکومت کے دور میں جاری حجاب پابندی کے حکم کو واپس لینے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔
کرناٹک میں حجاب کے معاملے پر ایک بار پھر سیاسی اور سماجی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ پیر کو ہندوتوا تنظیم سری رام سین کے کارکنوں نے ہبلی کے متعدد تعلیمی اداروں میں طلبہ کے درمیان زعفرانی شالیں تقسیم کیں اور اس اقدام کو ریاستی حکومت کی جانب سے طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دینے کے فیصلے کے خلاف ردعمل قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق زعفرانی شالیں ہبلی کے مختلف کالجوں بشمول کناکداسا کالج میں تقسیم کی گئیں۔ تنظیم کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ اگر تعلیمی اداروں میں حجاب کی اجازت دی جا سکتی ہے تو دیگر مذہبی شناختوں کی نمائندگی کرنے والی علامتوں کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔
یہ تنازع اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کانگریس کی قیادت والی کرناٹک حکومت نے ۵؍ فروری ۲۰۲۲ء کو بی جے پی حکومت کے دور میں جاری کیے گئے اس متنازع حکم کو واپس لے لیا جس کے تحت ریاست کے سرکاری تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا تھا جب اڈوپی سے شروع ہونے والا حجاب تنازع پورے کرناٹک میں پھیل گیا تھا اور بعد میں عدالتی و سیاسی بحث کا موضوع بن گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : نوجوانوں کو مثبت مثالیں چاہئیں، ورنہ ’کاکروچ‘ کی پیروی کریں گے: نائب صدر ہند
نظرثانی شدہ حکومتی ہدایات کے مطابق تعلیمی اداروں میں بعض روایتی اور مذہبی علامات کی اجازت ہوگی، جن میں سکھ طلبہ کی پگڑی، ہندو طلبہ کا جنیو، شیوادھرا، ردرکشا اور مسلم طالبات کا حجاب شامل ہیں، بشرطیکہ وہ نظم و ضبط، سلامتی یا شناختی عمل میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ مکتوب میڈیا نے وزیر اعلیٰ سدار کو حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ زعفرانی شالیں اس پالیسی کے تحت قابل اجازت نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’زعفرانی شالوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور انہیں تعلیمی اداروں میں نہیں پہنا جا سکتا۔‘‘ اس سے قبل سری رام سین کے بانی پرمود موتھالک نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت حجاب کی اجازت دیتی ہے تو ان کی تنظیم ریاست بھر کے طلبہ میں زعفرانی شالیں تقسیم کرے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ریاست کو مذہبی علامات کے حوالے سے یکساں پالیسی اپنانی چاہیے۔
یہ بھی پرھئے : شہری شعور کو سنجیدگی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے:ہرش گوئنکا
دوسری جانب کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے معاملے پر ردعمل ظاہر کیا کہ حکومت اس مسئلے پر مزید غور کرے گی۔ صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا، ’’ہم اس بات پر بات کریں گے کہ زعفرانی شال کی ضرورت ہے یا قومی شال کی۔‘‘ زعفرانی شالوں کی تقسیم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں سے ردعمل سامنے آیا۔ معروف وکیل سنجے ہیگڑے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر لوگ زعفرانی شال پہننا چاہتے ہیں تو انہیں ضرور پہننا چاہیے، لیکن پھر اسے بعد میں ترک بھی نہیں کرنا چاہیے۔ معروف مصنف اور سماجی کارکن اپوروانند نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زعفرانی شال پہننے کی روایت ہندو معاشرے کی تاریخی یا مذہبی روایت کا حصہ نہیں رہی اور اس کا موجودہ استعمال زیادہ تر سیاسی نوعیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ۲۰۲۹ء کے الیکشن کے پیش نظر کانگریس میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری
۲۰۲۲ء کے حجاب تنازع کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ابتدا میں اڈوپی کے چند تعلیمی اداروں تک محدود تھا، جہاں مسلم طالبات کئی برسوں سے حجاب پہن کر تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق بعد میں اس مسئلے کو بعض ہندوتوا تنظیموں اور اس وقت کی بی جے پی حکومت کی جانب سے سیاسی رنگ دیا گیا، جس کے نتیجے میں زعفرانی شالوں کے مظاہرے، طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات اور مسلم خواتین کی تعلیم تک رسائی سے متعلق خدشات پیدا ہوئے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ کانگریس حکومت کے حالیہ فیصلے کے بعد حجاب کا معاملہ ایک بار پھر کرناٹک کی سیاست میں اہم موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مذہبی شناخت، تعلیمی آزادی اور آئینی حقوق پر بحث مسلسل جاری ہے۔