ہندوستانی ایتھلیٹ جھنڈو کمار نے دولت مشترکہ کھیلوںکے پیرا پاور لفٹنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔ ہندوستان کے جھنڈو کمار نے گروپ ’بی‘ سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۱۹۰؍کلوگرام (۱۳۰ء۹؍پوائنٹس) کا وزن اٹھا کر پوڈیم پر جگہ بنائی۔
برونز میڈل جیتنے والے ہندوستان کے جھنڈو کمار(دائیں) دیگر فاتح کھلاڑیوں کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔(پی ٹی آئی)
ہندوستانی ایتھلیٹ جھنڈو کمار نے دولت مشترکہ کھیلوںکے پیرا پاور لفٹنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسے کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔ ہندوستان کے جھنڈو کمار نے گروپ ’بی‘ سے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۱۹۰؍کلوگرام (۱۳۰ء۹؍پوائنٹس) کا وزن اٹھا کر پوڈیم پر جگہ بنائی۔ یہ کانسے کا تمغہ، ۲۰۲۶ءچمپئن شپ میں ہندوستان کا پہلا تمغہ ہے جو پہلے دن ہندوستانی شرکت والے آخری مقابلے میں حاصل کیا گیا۔ پیرا پاور لفٹنگ کے انتہائی سخت مقابلے میں نائیجیریا کے رلوان ادریس نے۱۳۲ء۸؍ پوائنٹس کے ساتھ سونے کا تمغہ، انگلینڈ کے میتھیو ہارڈنگ نے ۱۳۱ء۰؍پوائنٹس کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتا۔ ہندوستان کی نمائندگی کر رہے بہار کے جھنڈو کمار نے ۱۳۰ء۹؍پوائنٹس حاصل کر کے کانسے کا تمغہ اپنے نام کیا۔
سخت دشواریوں میں زندگی گزاری
جھنڈو کمار کی زندگی آسان نہیں تھی۔ محض ۵؍ سال کی عمر میں پولیو نے انہیں جسمانی طور پر معذور کر دیا۔ مالی تنگی اتنی تھی کہ خاندان کی مدد کے لئے انہیں والدین کے ساتھ سبزیاں بیچنی پڑتی تھیں۔ ہرنوت کے مقامی بازاروں تک پہنچنے کے لئے وہ تقریباً ۲۰؍ کلومیٹر کا سفر کرتے تھے۔ اُس وقت ان کے پاس وہیل چیئر تک نہیں تھی۔۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۲ءکے درمیان جھنڈو نے شروع میں صرف جسم کو مضبوط بنانے کیلئے ویٹ ٹریننگ شروع کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے شاٹ پٹ اور جیولین تھرو میں بھی ہاتھ آزمایا لیکن آخر کار پیرا پاور لفٹنگ کو اپنا کریئر بنا لیا۔عالمی سطح پر کھیلنے کے لئے ضروری غذا اور نیوٹریشن کا انتظام کرنا بھی ان کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ روزی روٹی چلانے کیلئے انہوں نے دوستوں سے ادھار لے کر ای رکشا خریدا لیکن کورونا وبا کے دوران یہ کام بھی ٹھپ ہو گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے پریکٹس نہیں چھوٹی اور مسلسل محنت کرتے رہے اور انہوںنے دولت مشترکہ کھیلوں میں ملک کیلئے پہلا تمغہ حاصل کیا۔قابل ذکر ہے کہ ان کا اصل نام جھنّو کمار تھا لیکن ان کی معذوری کی وجہ سے انہیںجھنڈو پکارنے لگے جو بعد میں ان کا نام ہی پڑ گیا۔
سچن سیواچ نے راؤنڈ آف ۱۶؍ میں جگہ بنائی
ہندوستانی باکسر سچن سیواچ نے سنیچر کو دولت مشترکہ کھیلوں کے مردوں کے ۶۰؍ کلوگرام وزن کے زمرے کے راؤنڈ آف ۳۲؍ مقابلے میں کینیڈا کے کیوما ال احمدیہ کو شکست دے کر پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف ۱۶) میں جگہ بنا لی۔دولت مشترکہ یوتھ کھیلوں کے سابق چمپئن سچن سیواچ نے سخت مقابلے میں برمنگھم ۲۰۲۲ءکے ۵۷؍ کلوگرام وزن کے زمرے کے کانسے کے تمغہ یافتہ ال احمدیہ کو ۴۔ایک سے اسپلٹ فیصلہ کے ذریعے شکست دی۔دونوں بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے باکسروں کے درمیان مقابلے کا آغاز جارحانہ انداز میں ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے پر بھرپور مکے برسائے۔ پہلے راؤنڈ میں سچن نے معمولی برتری حاصل کی اور ۵؍ میں سے ۳؍ججوں نے انہیں ۹۔۱۰؍سے فاتح قرار دیا۔
ال احمدیہ، جن کی بہن میری ال احمدیہ بھی گلاسگو ۲۰۲۶ءمیں خواتین کے ۶۰؍کلوگرام وزن کے زمرے میں حصہ لے رہی ہیں، نے دوسرے راؤنڈ میں سچن کو سخت ٹکر دی۔ تاہم ہندوستانی مکے بازنے مؤثر جوابی حملوں کے ذریعے تمام پانچوں ججوں کے اسکور کارڈ پر ۹۔۱۰؍سے یہ راؤنڈ اپنے نام کر لیا۔تیسرے اور آخری راؤنڈ میں کینیڈین باکسر نے واپسی کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا، لیکن برتری حاصل ہونے کے باعث سچن نے محتاط حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مقابلے کی رفتار کو قابو میں رکھا۔ اگرچہ تین ججوں نے آخری راؤنڈ۹۔۱۰؍سے ال احمدیہ کے حق میں دیا تاہم مجموعی اسکور میں سچن سیواچ اسپلٹ فیصلہ کے ذریعے فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہےپیر کو ہونے والے راؤنڈ آف ۱۶؍ کے مقابلے میں سچن کا سامنا انگلینڈ کے ول ہیوٹ سے ہوگا۔ ہیوٹ نے گزشتہ سال لیورپول میں منعقدہ عالمی باکسنگ چمپئن شپ میں پیرس اولمپکس ۲۰۲۴ء کے چاندی کے تمغہ یافتہ مناربیک سیتبیک اولو کو شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا تھا۔