اے آر رحمان نے نیٹ فلکس کی ’ ’بیسٹ آف دی بیسٹ‘‘کیلئے گانا کمپوز کیا
Updated: September 10, 2026, 8:04 PM IST
| Mumbai
آسکر ایوارڈ یافتہ معروف موسیقار اے آر رحمان نے نیٹ فلکس کی آنے والی میوزیکل کامیڈی فلم ’ ’بیسٹ آف دی بیسٹ‘‘ کے لیے ایک خصوصی گانا کمپوز کیا ہے۔ فلم کے پروڈیوسر حسن منہاج نے اپنے یوٹیوب چینل پر اس حوالے سے انکشاف کیا اور بتایا کہ رحمان کی فلم میں شمولیت ٹیم کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اے آر رحمان۔ تصویر:آئی این این
جب اے آر رحمان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اس پروجیکٹ کے لیے گانا کمپوز کرنے پر رضامندی کیوں ظاہر کی تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کام پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں فلم کی ٹیم کے ارادوں نے متاثر کیا۔ رحمان نے کہا کہ وہ عام طور پر ایسے معاملات میں اپنی اندرونی آواز اور احساس کی پیروی کرتے ہیں۔ اے آر رحمان کے مطابق موجودہ دور میں دنیا میں تقسیم اور اختلاف کی سیاست بڑھ رہی ہے، ایسے میں فنکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ثقافت میں مثبت چیزوں کا اضافہ کریں۔ انہوں نے حسن منہاج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میں رہتے ہوئے لوگوں کے لیے ہنسی، مزاح اور محبت لے کر آرہے ہیں اور انہیں حسن کا یہ کام پسند ہے۔ رحمان نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ یہ ایک اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والی ٹیم ہے، اسی لیے انہوں نے اس پروجیکٹ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
رحمان نے یہ بھی بتایا کہ فلم کی ہدایت کار لینا خان نے ۲۰۱۴ء میں ان سے اپنے میوزک پر کام کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ اس لیے’’بیسٹ آف دی بیسٹ ‘‘ کے لیے ان کی موجودہ شمولیت انہیں ایک مکمل دائرہ مکمل ہونے جیسا محسوس ہوتی ہے، یعنی کئی برس پہلے شروع ہونے والا رابطہ اب ایک نئے پروجیکٹ کے ذریعے دوبارہ جڑ گیا ہے۔ فلم میں پروفیسر حمزہ لطیف کا کردار ادا کرنے والے حسن منہاج نے کہا کہ اے آر رحمان کی شمولیت فلم کی ٹیم کے وژن کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق ٹیم ’’بیسٹ آف دی بیسٹ ‘‘ کو ایک حقیقی امریکن میوزیکل کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے اور ایسے میں رحمان جیسے عالمی شہرت یافتہ موسیقار کا نام اس میوزیکل روایت کا حصہ بننا بہت معنی رکھتا ہے۔’’بیسٹ آف دی بیسٹ‘‘میں میتری رام کرشنن اور پرینکا کیڈیا مرکزی کرداروں میں ہیں، جو بچپن کی دوست مایا اور انجلی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ دونوں لڑکیاں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے ) کی ایک انتہائی مسابقتی Bollywood-Fusion Dance Team میں شامل ہوتی ہیں۔
فلم کی کہانی دونوں دوستوں کے امریکہ میں ہونے والے ڈانس مقابلے کے سفر کے گرد گھومتی ہے، جہاں وہ قومی چیمپئن شپ جیتنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ حریفوں، دوستی، ذاتی مسائل اور زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا سامنا کرتی ہیں۔ یہ فلم نوجوانی، دوستی، ثقافتی شناخت اور اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کی جدوجہد کو مزاحیہ اور میوزیکل انداز میں پیش کرے گی۔فلم کا اسکرین پلے حسن منہاج نے اپنے دیرینہ ساتھی پرشانتھ وینکٹارامانوجم کے ساتھ مل کر تحریر کی ہے۔ دونوں ۱۸۶؍ کے فلمزکے بینر تلے فلم کے پروڈیوسرز میں بھی شامل ہیں، جبکہ رائڈ بیک کے جوناتھن ایریچ بھی پروڈیوسر کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ ہیں۔ ریان ہالپرن اور ایلن شوارٹز فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز ہیں۔ فلم کی کہانی امریکہ کی یونیورسٹیوں میں موجود Bollywood-Fusion Dance Circuit سے متاثر ہے، جہاں جنوبی ایشیائی طلبہ مسابقتی ڈانس ٹیموں کا حصہ بنتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی تعلیم اور ذاتی زندگی کو بھی متوازن رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اے آر رحمان کی شمولیت نے فلم کی موسیقی اور ثقافتی پہلو کو مزید نمایاں کردیا ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ہنسی، محبت، موسیقی اور ثقافتی اظہار کے ذریعے معاشرے میں مثبت اضافہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience
and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree
to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK