سوال کیا جارہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اسا تذہ ناکام ہو رہے ہیں تو طلبہ کا تعلیمی مستقل کیا ہوگا؟تعلیمی تنظیموں کے مطابق تمام اُمیدواربرسرروز ٹیچر نہیں تھے بلکہ بڑی تعداد میں بے روزگار، نئے اور پہلی بار امتحان دینے والے بھی شامل تھے۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 2:26 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
سوال کیا جارہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اسا تذہ ناکام ہو رہے ہیں تو طلبہ کا تعلیمی مستقل کیا ہوگا؟تعلیمی تنظیموں کے مطابق تمام اُمیدواربرسرروز ٹیچر نہیں تھے بلکہ بڑی تعداد میں بے روزگار، نئے اور پہلی بار امتحان دینے والے بھی شامل تھے۔
۲۰۲۵ء کے ’ٹیچر ایلی جیبلیٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی)‘ میں تقریباً ۴؍ لاکھ اساتذہ کے فیل ہونے پر عوام میں یہ سوال اُٹھ رہاہےکہ اگر اتنی بڑی تعداد میں اسا تذہ فیل ہو رہے ہیں تو طلبہ کا تعلیمی مستقل کیا ہوگا؟اس سوال سے ٹیچر برادری میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ اس بارے میں تعلیمی تنظیموں نے یہ بتایا ہے کہ فیل ہونے والے ٹیچروں میں بڑی تعداد بے روز گار اور پہلی مرتبہ امتحان دینے والوں کی تھی، چنانچہ سینئر اساتذہ کے تعلق سے ایسا قیاس کرنا سراسر غلط ہے۔
واضح رہےکہ حال ہی میں ’ٹی ای ٹی‘ کے نتائج کااعلان کیاگیاہے جس میں صرف ۱۱ء۲۸؍ فیصد اُمیدوار کامیاب جبکہ ۳؍لاکھ ۹۶؍ہزار اُمیدوار فیل ہوئےہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: میئرڈپٹی میئر کے انتخابی عمل میں تاخیر، سرکاری حکم نامے کا انتظار
خیال رہےکہ ٹی ای ٹی امتحان کے نتائج، اساتذہ کی قابلیت کا تعین کرتے ہیں۔ ٹی ای ٹی امتحان کے نتیجے نے پورے تعلیمی شعبے کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ صرف۱۱ء۲۸؍فیصد اُمیدوار پاس ہونے سےامتحان دینے والے دیگر اُمیدواروں میں مایوسی پائی جارہی ہے۔
مہاراشٹرایگز مینیشن کونسل کےمطابق ٹی ای ٹی امتحان کیلئے کل ۴؍لاکھ ۷۵؍ہزار ۶۶۹؍ اُمیدواروں نے رجسٹریشن کرایاتھا۔ ان میں سے ۴؍ لاکھ ۴۶؍ہزار ۷۳۰؍ اُمیدوار امتحان میں شریک ہوئےجبکہ ۲۸؍ہزار ۹۳۹؍ اُمیدوار غیر حاضررہے۔ ۵۰؍ہزار ۳۶۹؍ اُمیدواروں کو کامیابی ملی۔ ۳؍لاکھ ۹۶؍ہزار ۳۲۵؍ اُمیدوار فیل ہوئے۔ پیپر ون اور پیپرٹو دونوں میں ناکامی کی شرح تشویشناک رہی۔
دریں اثناء اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے اس نمائندے سے کہاکہ ’’ مذکورہ نتائج کے پس منظر میں اساتذہ کے تئیں جوسوچ پیدا کی جارہی ہے، وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ ٹی ای ٹی امتحان میں نااہل قرار دیئے گئے تمام اُمیدوار سرکاری یا نجی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ نہیں تھے۔ ان میں بڑی تعداد بے روزگار، نئے اور پہلی بار امتحان دینے والے اُمیدواروں کی تھی، لہٰذا ۴؍ لاکھ اساتذہ کونااہل قرار دینا سراسر غلط ہے۔ برسرروزگار اساتذہ میں سے بہت کم نے ٹی ای ٹی امتحان دیاتھا۔ اس لئے پورے تعلیمی نظام یا موجودہ اساتذہ کے معیار پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ ‘‘