• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاستی حج کمیٹی کی غفلت سے میڈیکل سرٹیفکیٹ کیلئے عازمین ِ حج پریشان

Updated: February 07, 2026, 2:27 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Jogeshwari

اسپتالوں کے چکر لگانے پر مجبور۔ چیک اپ کرانے کے بعد شتابدی اسپتال جانے پر۱۶۰۰؍ سے زائد عازمین کویہ کہہ کر لوٹا دیاگیا کہ مزید دو ٹیسٹ کرانے کےبعد ٹیکہ لگاکر سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ حج کمیٹی کے سی ای اولاعلم ۔

Pilgrims are seen queuing at Millat Hospital to undergo re-testing. Photo: INN
دوبارہ ٹیسٹ کرانے کیلئے عازمین ملت اسپتال میں قطارمیں بیٹھےنظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ریاستی حج کمیٹی کی غفلت سے عازمینِ حج پریشان ہیں، وہ اسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوئے۔ عازمین کے ۷؍ اقسام کے میڈیکل چیک اَپ کیلئے ملت اسپتال انتظامیہ کو ریاستی حج کمیٹی کی جانب سےسفارشی خط دیا گیا۔ خط موصول ہونے کے بعد ۱۶۰۰؍ سے زائدعازمین نے چیک اپ بھی کروالیا اور جب دماغی بخار کا ٹیکہ لگوانے اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے عازمین جمعہ کی صبح شتابدی اسپتال (کاندیولی) پہنچے توانہیں یہ کہہ کر لوٹا دیاگیا کہ اوپر سے آدیش ہے، دو مزید ٹیسٹ ’ایچ آئی وی اورسی بی سی ‘ کرائیے، اس کےبعد ٹیکہ لگاکر سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہواکہ عازمین پریشان ہوگئے۔ صبح سویرے سے شتابدی اسپتال میں طویل قطار میں کھڑے رہنے والے عازمین کو دوبارہ ملت اسپتال کا چکر لگانا پڑا، دوبارہ فیس دینی پڑی اورپھر شتابدی اسپتال جانا ہوگا۔ مطلب جو کام ایک ہی مرتبہ خون نکالنے اورفیس جمع کرنے سے آسانی سے ہوجاتا اس کیلئے عازمین چکر لگانے اور وقت ضائع کرنے پرمجبور ہوئے۔ 
پریشانی عازمین کی زبانی
باندرہ میں رہنےوالے ایازاحمدحاجی نے بتایا کہ ’’ میرے جیسے سیکڑوں عازمین کیلئے پریشانی کا سبب یہ ہےکہ ایک توطویل قطار میں کھڑے رہنے کےبعد چیک اَپ کیا گیا، اس کےبعد جب ٹیکہ لگوانے پہنچے تو ۲؍ مزیدچیک اپ کیلئے کہا گیا، اس کا نتیجہ یہ ہواکہ میری گھر والی بھی کام کاج چھوڑ کراسپتال پہنچی۔ اگریہی چیک اَپ پہلے لکھ دیا گیا ہوتا تونہ توبھاگ دوڑ کرنی پڑتی اور نہ ہی ایک سےزائدمرتبہ اسپتال کے چکر لگانا پڑتا اور نہ ہی دوبارہ فیس جمع کرانی ہوتی۔ ‘‘ 
پاٹلی پترنگر مسجد (جوگیشوری ) کے امام و خطیب مولانا شاہد نے بتایاکہ’’ جب وہ جمعہ کی صبح شتابدی اسپتال ٹیکہ لگوانے پہنچے تو کسی صورت ٹیکہ تولگ گیا مگر اسپتال کے عملہ کی جانب سے اوپر کے آدیش کا حوالہ دیا گیا کہ دو مزیدٹسٹ کرانے ہوں گے، اس کے بعد ٹیسٹ رپورٹ پر مہر لگائی جائے گی۔ ا س طرح شتابدی اسپتال میں قطار میں کھڑے ۷۵؍ سےزائدعازمین کومایوس لوٹنا پڑا۔ ‘‘ مولانا کے مطابق ’’ اگریہ سب کچھ پہلے کردیا گیاہوتا اورحج کمیٹی کی جانب سے وضاحت کردی گئی ہوتی تو یہ نوبت نہ آتی ا ورسیکڑوں عازمین غیر ضروری طور پر پریشان نہ ہوتے۔ ‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: حج روانگی کیلئے’سیلف بکنگ ونڈو‘ سے ۸۰؍ہزارعازمین ِ حج نےخود بکنگ کرائی

ریاستی حج کمیٹی کے سی ای اونے کیاکہا ؟
ریاستی حج کمیٹی کے ایگزیکٹیو آفیسر منوج جادھو (جن کی تقرری پرریاستی حکومت کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیاہے)نے ملت اسپتال کے انچارج ڈاکٹر طلحہ دُکّا کو مرکزی وزارت برائے صحت عامہ اور خاندانی فلاح و بہبود کی ہدایات کے حوالے سے۳؍فروری کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ملت نرسنگ ہوم میں عازمین کے ۷؍اقسا م کےچیک اَپ کی سہولت مہیا کرائیں اور ۲؍ فروری کوجو بات چیت کی گئی ہے، اس پرعمل درآمد کیاجائے۔ حج کمیٹی کے ایگزیکٹیوآفیسر کی جانب سےلکھےگئے خط میں (۱) ایکسرے (۲) ای سی جی (۳)آر ایف ٹی (۴) ایل ایف ٹی (۵) آر بی ایس (۶) یو پی ٹی (خصوصاً خواتین کےلئے ) اور یوایس جی کرنے کی سفارش کی گئی ساتھ ہی یہ بھی لکھاگیا کہ ۳؍ ہزار عازمین کا یہ میڈیکل چیک اپ ۶؍ فروری تک پورا کردیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ اس خط میں ایچ آئی وی اورسی بی سی کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ 
حیرت کی بات یہ ہے کہ عازمین کو ہونے والی پریشانی اورمزید ٹیسٹ کے تعلق سے حج کمیٹی کے سی ای اومنوج جادھو کوعلم ہی نہیں ہے۔ نمائندۂ انقلاب کے توجہ دلانے پرانہوں نے کہا کہ کس نے آرڈر دیا ہے، میں دیکھتا ہوں اورفوری طور پر مسئلہ حل کراتا ہوں۔ ‘‘ 
سفارشی خط پر عمل کیا گیا :اسپتال انچارج 
اس پرملت اسپتال کے انچارج ڈاکٹرطلحہ دُکّا سے پوچھنےپر انہوں نے کہا کہ’’ ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے جو سفارش کی گئی تھی، اس پرعمل کیا گیا اور جتنے ٹیسٹ لکھے گئے تھے، وہ کرکے رپورٹ عازمین کو دے دی گئی، بعد میں دو مزید چیک اپ کیلئے بتایا گیا۔ اگریہ پہلے ہی خط میں درج کیا گیا ہوتا ایک ساتھ یہ ٹیسٹ بھی کرلئے گئے ہوتے۔ ویسے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے عازمین کا ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ ‘‘
ذمہ داران نے مشترکہ کوشش کی 
عازمین ِ حج کا ملت اسپتال میں چیک اَپ کا نظم کرانے اور فیس کا بڑا حصہ ادا کرنے کے تعلق سے حافظ محمداقبال چوناوالا نےبتایاکہ’’اس تعلق سے کافی کوشش کی گئی اور مقامی ذمہ دار اشخاص نے تعاون کیا اور چیک اَپ کی فیس کا بڑا حصہ بھی ذمہ داران نے مشترکہ طور پر ادا کیا مگر ریاستی حج کمیٹی کی غفلت کے سبب عازمین کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK