شگفتہ خان جونیئر ریسرچ فیلوشپ کےساتھ اسسٹنٹ پروفیسر اور خان عمیرہ اسسٹنٹ پروفیسر اور پی ایچ ڈی کے لئےکوالیفائی ۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 2:25 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
شگفتہ خان جونیئر ریسرچ فیلوشپ کےساتھ اسسٹنٹ پروفیسر اور خان عمیرہ اسسٹنٹ پروفیسر اور پی ایچ ڈی کے لئےکوالیفائی ۔
مہاراشٹر کالج کی ایم اے اُردو سیکنڈ ایئر کی ۲؍ طالبات نے اپنی پہلی ہی کوشش میں یوجی سی نیٹ کلیئر کرکے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خان شگفتہ عقید احمد نے ۳۰۰؍ میں سے ۲۳۴؍ مارکس کی مدد سےجونیئر ریسرچ فیلوشپ کےساتھ اسسٹنٹ پروفیسر اور خان عمیرہ عرفان نے ۳۰۰؍ میں سے ۲۰۲؍ نمبر حاصل کرکے اسسٹنٹ پروفیسر اور پی ایچ ڈی کیلئے کوالیفائی کیاہے۔ اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ دونوں طالبات فی الحال ایم اے میں زیر تعلیم ہیں، اس کے باوجود انہوں نے یہ اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
پائیدھونی میں رہائش پزیر شگفتہ عقید احمد خان نے بتایا کہ ’’میں نے سیلف اسٹڈی کے ذریعے اس امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں کا بار بار مطالعہ اور باقاعدہ نظرِ ثانی میری تیاری کا اہم حصہ رہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ٹیچرڈاکٹرمحمد اظفرخان نے وقتاً فوقتاً موک ٹیسٹ بھی لئے جو نہایت مفید ثابت ہوئے۔ پہلےاور دوسرے پرچے کیلئے یوٹیوب اور معیاری کتابوں کی بھی ورق گردانی کی۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس قسم کے امتحان میں یکسوئی کے ساتھ مسلسل محنت نہایت ضروری ہے۔ وقت کا درست استعمال بے حد اہم ہے۔ مثبت سوچ، خود اعتمادی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کی گئی تیاری ہی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: تھانے: ٹریفک پولیس نے طلبہ کی مدد کیلئے ۵۴؍ موٹرسائیکل سوار تعینات کیے
کرلا ہلائو پل میں رہائش پزیر خان عمیرہ عرفان کے بقول’’ یو جی سی نیٹ امتحان کی تیاری میرے لئے صرف ایک تعلیمی مرحلہ نہیں بلکہ خود احتسابی، صبر اور مسلسل محنت کا سفر رہا۔ اس امتحان کیلئے میں نے پوری پڑھائی اپنے طورپر کی۔ پیپر ایک اور ۲؍ کیلئے میں نے معیاری کتب کا انتخاب کیا اور مطالعے کو مقصدیت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ہر باب کے اہم نکات کو قلم بند کیا تاکہ وقت ِ ضرورت وہ میرے لئے رہنمائی کا ذریعہ بن سکیں۔ گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچوں کےمطالعہ سے آسانی ہوئی۔ موک ٹیسٹ نے نہ صرف رفتار بہتر کی بلکہ اضطراب کو بھی کم کیا۔ میں نے محدود مگر مستند وسائل پر بھروسہ اور غیر ضروری مواد سے خود کو محفوظ رکھا۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم اے کے ساتھ یو جی سی نیٹ کی تیاری کرنا واقعی ایک مشکل مرحلہ رہا۔ ایک طرف ایم اے کا نصاب، اسائنمنٹس اور امتحانات کی ذمہ داریاں تھیں ، دوسری جانب نیٹ کے وسیع نصاب کا دباؤلیکن حوصلہ، خود اعتمادی اور مثبت سوچ سے محنت رنگ لائی۔ پہلی ہی کوشش میں یو جی سی نیٹ امتحان میں کامیابی ملی۔ مستقبل میں میرا ارادہ ہے کہ تدریسی خدمات کے ساتھ پی ایچ ڈی کا سفر بھی جاری رکھوں۔‘‘