ایک ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی، آئی ٹی کے علاوہ تمام سیکٹرس کے شیئرس منفی زون میں چلے گئے۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 12:56 PM IST | Mumbai
ایک ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی، آئی ٹی کے علاوہ تمام سیکٹرس کے شیئرس منفی زون میں چلے گئے۔
محکمۂ موسمیات کی جانب سے اس سال مانسون کمزور رہنے کی پیش گوئی کے بعد جمعہ کو گھریلو شیئر بازاروں میں گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای کا سینسیکس تقریباً۱۱؍سو پوائنٹس گر گیا۔ ابتدائی برتری کے ساتھ کھلنے کے بعد سینسیکس ایک ہزار ۹۲؍پوائنٹس گر کر ۷۴۷۷۵؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی انڈیکس بھی۳۵۹؍ پوائنٹس کیساتھ ۲۳۵۴۷؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔ ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ اس سال بارش ۹۰؍فیصد ہی ہونے کا امکان ہے یعنی مانسون اوسط سے کم رہنے کا امکان ہے۔ کمزور مانسون کی تشویش کے باعث بازار میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: بڑھتے اخراجات، کم طلب؛ ایئر انڈیا اور انڈیگوگھریلو پروازوں میں بڑی کمی کا اعلان
وسیع تر بازار میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ نفٹی مڈکیپ ۵۰؍انڈیکس۱ء۴۹؍ فیصد اور اسمال کیپ۱۰۰؍ انڈیکس۰ء۸۵؍ فیصد نیچے بند ہوئے۔ آئی ٹی سیکٹر کے علاوہ تمام سیکٹر انڈیکس منفی زون میں رہے۔ تیل اور گیس، دھات، آٹو، بینکنگ، مالیات، ایف ایم سی جی، فارما، صحت، پائیدار صارف اشیا اور کیمیکل گروپس میں زیادہ فروخت دیکھی گئی۔ سینسیکس میں شامل کمپنیوں میں پاور گرڈ کا شیئر تقریباً ساڑھے تین فیصد گر گیا۔ انڈیگو میں سوا تین فیصد اور این ٹی پی سی اور مہندرا اینڈ مہندرا میں تقریباً پونے تین فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ٹاٹا اسٹیل، بجاج فائنانس، الٹراٹیک سیمنٹ، سن فارما، ہندوستان یونی لیور، ایٹرنل اور ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرس بھی دو فیصد سے زیادہ گر گئے۔ بی ای ایل، ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی ٹی سی، ٹائٹن، آئی سی آئی سی آئی بینک، بجاج فنسرو، ایکسس بینک، ٹی سی ایس، بھارتی ایئرٹیل اور ماروتی سوزوکی کے شیئرس میں بھی ایک سے دو فیصد تک گراوٹ درج کی گئی۔