مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی بستیوں کی توسیع کی مذمت

Updated: May 09, 2022, 12:16 PM IST | Agency

امریکہ اور قطر نے ۴؍ ہزار نئی یہودی بستیاں بسانے کی شدید مخالفت کی اور اسے دونوںممالک کے تعلقات میں مزیدکشیدگی کا سبب بتایا

Ghettos are constantly being set up along the western shores.Picture:INN
مغر بی کنارے میں مسلسل یہودی بستیاں بسائی جارہی ہیں۔۔ تصویر: آئی این این

 امریکہ  اور قطر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طریقے سے  ۴؍ ہزار  نئی یہودی بستیاں بسانے کی شدید مخالفت کی ہے۔   واضح رہےکہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے  میں مزید۴؍ہزار غیر قانونی بستیاں  تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیر داخلہ نے مقبوضہ مغربی کنارے  میں۴؍ ہزار غیر قانونی بستیاں بنانے کے منصوبے کی تصدیق کی ہے جس کی جلد از جلد منظوری کیلئے  آئندہ منصوبہ بندی کمیٹی کا اجلاس ہوگا ۔  اس منصوبے کی امریکہ نے بھی شدید مخالفت کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ محکمۂ خارجہ کی ڈپٹی تر جمان  جالینا پارٹر نے بتایا کہ امریکہ اسرائیل کےفیصلے سے باخبر ہے  ۔ ہم  یہودی آبادی کی غیر قانونی توسیع کی شدید مذمت کرتے ہیں جس سے فریقین کے درمیان مزید کشیدگی بڑھے گی ۔  ان کا یہ بھی کہناتھا کہ اسرائیل کے یہودی بستیوں کی توسیع  کے منصوبے  کا منفی اثر ہوگا۔ اس سے دو ریاستی حل کا مقصد حاصل نہیں  ہوگا ۔ اس سلسلے میں اب تک کی گئی کوششیں  بھی ضائع ہوجائیں گی۔    قبل ازیں اسرائیل میں مامور امریکی سفیر تھامس نائیڈز  نے کہا تھا :’’ جوبائیڈن انتظامیہ اس سلسلے میں مکمل طور پر واضح کرچکا ہےکہ وہ مزید تعمیراتی سرگرمیوں کی سخت مخالفت کرے گا۔‘‘ اگر اسرائیل کی جانب سے۴؍ہزار بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی گئی تو یہ امریکی صدر جوبائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے بڑی تعمیرات ہوں گی جبکہ وہائٹ ہاؤس مسئلے کے دو ریاستی حل کیلئے مغربی کنارے  میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیرات کا مخالف ہے۔  ٹویٹر پر جاری بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے حامی اسرائیلی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ۴؍ ہزار بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری کے لئے  منصوبہ بندی کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا جبکہ اسرائیلی وزیر نے ان غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کوضروری  قرار د یا تھا۔ اسرائیلی اخبار ہارٹیز کا کہنا ہےکہ ایک ہزار ۴۵۲؍ بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں  انتظامیہ اور فوجی حکام جمعرات کو ملاقات کریں گے جبکہ دیگر ۲؍  ہزار۵۳۶؍یونٹس کی تعمیر کی منظوری وزیر دفاع کی جانب سے دی جائے گی۔ دوسری جانب قطر نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ اس نے غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کو غیر قانونی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں   کہا کہ اسرائیل کے نئے منصوبے سے  دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوں گے۔ دونوں کے درمیان قیام کی  عالمی برداری کی محنت ضائع ہوجائے گی جس سے دو ریاستی حل کاخواب بھی  پورا نہیں ہوگا ۔   اسرائیلی حکومت کے مطابق نئے منصوبے کے مطابق مختلف بستیوں میں کل ایک ہزار ۴۵۲؍ ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کئے جائیں گے جن میں نیکودیم میں ۳۲، معالیہ ادومیم میں ۱۶، کدومیم میں۲۸۶، دولیو میں۹۰، عمانویل میں۱۷۰، ماوو حورن میں ۱۱۰، شعاری تکیوا میں  ۱۹۲، الکناہ میں ۵۰۰ اور ناگوہوت میں۵۶؍ مکان شامل ہیں۔اسی طرح بعض دوسری کالونیوں میں۲؍ ہزار۵۳۶؍ ہاؤسنگ یونٹس کی حتمی منظوری دی جائے گی جن میں دولیو میں ۳۶۴،  معالیح مکماش میں ۱۱۴، شیوت راحیل میں ۵۳۴، نیریا میں  ۱۶۸، گیوات زیف میں ۱۳۶، افرات میں  ۴۰، زوفیم میں ۹۲، ریواوا میں ۶۴، تل منشیہ میں ۱۰۷،   بیٹار ایلیٹ میں ۷۶۱  اورکریات اربع کے ۱۵۶؍ مکانات  شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK