خسرہ کاٹیکہ لگوانے کیلئے سرپرستوں کی ذہن سازی اورعوامی میٹنگ کا انعقاد

Updated: November 22, 2022, 12:21 AM IST | Iqbal Ansari and kazim shaikh | Mumbai

شہراور مضافات میں خصوصی مہم کے تحت والدین کو سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ۵؍ سال سے کم عمر کے بچوں کو لگایا جانے والا ٹیکہ محفوظ ہے ۔ شہری انتظامیہ مقامی ڈاکٹروں کی بھی مدد لے رہا ہے

Municipal officers meeting in Govindya and Mumbra to control measles
خسرہ پر قابو پانے کیلئے گوونڈیاور ممبرا میں میونسپل افسران میٹنگ

 شہراور مضافات کے متعدد علاقوں میں خسرہ کی بیماری پھیل رہی ہے۔اس وبا سے سب سے زیادہ گوونڈی (ایم/ ایسٹ میونسپل وارڈ) متاثر ہے۔ اس  وبائی بیماری پر قابو پانے  کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی) کا محکمۂ صحت متعدد اقدامات کررہا ہے۔ اسی اقدام کےتحت ان تمام علاقوں کے مکینوں کی ذہن سازی بھی کی جارہی ہے جہاں پر خسرہ کے مشتبہ مریض پائے جارہے ہیں  ۔  بی ایم سی کا دعویٰ ہے کہ اب تک بی ایم سی نے اس ضمن  میں ۱۳؍ لاکھ سے زائد افراد کی کاؤنسلنگ کی ہے ۔ یہ  ذہن سازی  خسرہ کا ٹیکہ لگانے کے علاوہ بچوں کو مقوی غذا لینے کے بارے میں بھی کی جارہی  ہے ۔
 یادر ہے کچھ ہی دنوں پہلے گوونڈی کے رفیع نگر جھوپڑپٹی میں ۴۸؍ گھنٹے کے دوران ۳؍ بچوں کی خسرہ سے موت ہوگئی تھی اور اس خبر کو انقلاب نے تفصیل سے شائع کی تھی ۔ اس کے بعد میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت حرکت میں آیا اور ان کے عملہ نے علاقے میں جانچ شروع کردی ہے ۔  
  طبی جانچ میں یہاں دوسرے بچے بھی خسرہ سے  متاثرہ پائے گئے۔میونسپل محکمہ صحت کی جانچ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گوونڈی کے متعدد علاقوں میں رہنے والے  زیادہ تر بچوں  کے والدین میں یہ غلط فہمی پائی جارہی ہے کہ ان ٹیکوں  کے ذریعے  نسل پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اسی وجہ سے والدین  اپنے بچوں کو خسرہ اور دیگر کئی امراض سے بچنے والے ٹیکےلینے میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں ۔ٹیکہ کاری کی اس کمی کو دور کرنے کیلئے بی ایم سی  عملہ  ساتھ ہی  ساتھ یہاں کے پرائیویٹ ڈاکٹروں کو بھی ٹیکہ کاری کے مہم میں شامل کیا گیا ہے۔ 
 گوونڈی ایم ایسٹ وارڈ کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر مہندر اوبالے نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے چلائے جانے والے کمیونیٹی ہیلتھ کیئر سمیت بی ایم سی کے دوسرے  ملازمین کے ذریعہ گوونڈی، مانخورد اور چیتاکیمپ کے علاوہ دیگر جھوپڑپٹیوں میں کاؤنسلنگ کی جارہی ہے۔ اس دوران بچوں کے والدین کو ٹیکہ کاری کی خصوصی اہمیت سمجھائی جارہی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی گھر میں بیماری کو روکنے کیلئے گھر کے آس پاس کے علاقے صاف ستھرا رکھنے کے بارے میں بھی سمجھایا جارہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچے اور والدین کوصحت مند رہنے کیلئے کیا کیا احتیاطی اقدامات کرنا چاہئے اور کھانے میں کون سی مقوی غذا استعمال کی جانی چاہئے یہ بھی بتایا جارہا ہے،ساتھ ہی بچوں کیلئے گھروں میں وٹامن’ اے‘ کی گولیاں مفت دی جا رہی ہیں ۔ 
 ڈاکٹر مہندر کا کہنا ہے کہ مکینوں کو ٹیکہ کاری کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر بچے خسرہ جیسی بیماری سے متاثر ہوتے ہیں تو ان کا گھریلو علاج کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹروں سے رابطہ قائم کریں۔
   ایک دوسرے  افسر کا کہنا ہےکہ خسرہ سے بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ٹیکہ کاری کی ا خصوصی مہم میں تیزی لائی جارہی ہے۔  اس مہم میں ایسے بچوں کو تلاش کیا جا رہا ہے جن کی اب تک ٹیکہ کاری نہیں ہوئی ہے اور وہ بچےبھی شامل ہیں جنہوں نے درمیان میں ہی  ٹیکہ لگوانا چھوڑدیا تھا۔
  دھاراوی(جی نارتھ  وارڈ) کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر پرشانت سکپالے نے بتایا کہ دھاراوی کے علاقے میں بھی خسرہ سے متاثر پائے جانے والے بچوں کو ٹیکہ لگانے اور دوسرے امراض سے بچنے کیلئے ٹیکہ کاری میں تیزی لانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز پہلے متعدد علاقوں میں خسرہ اور دوسرے ٹیکہ کیلئے کیمپ لگائے گئے تھے ۔ اس کےعلاوہ خسرہ کا ٹیکہ لگانے کیلئے عوام  میں بیداری پیدا کرنے کیلئے متعدد اقدامات شروع کئے جارہے ہیں۔بقول افسرصفر سے۵؍ سال تک کے بچوں کو خسرہ کا ٹیکہ لگانا ضروری ہے اور اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے علاقے  کےپرائیویٹ ڈاکٹروں کی خدمات بھی  حاصل کررہی ہے۔ پرائیویٹ ڈاکٹروں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ خسرہ کے مشتبہ مریضوں کی اطلاع    بی ایم سی کے ہیلتھ محکمہ کو دیں ۔  
 کرلا کےسابق کارپوریٹر اشرف اعظمی نے ان کے علاقے کے تعلق سے بتایاکہ کرلا کے متعدد علاقوں میں خسرہ سے  متاثرہ بچے پائے گئے تھے جس کے بعد جانچ مہم شروع کی گئی ہے اور ۹۰؍ میں سے ۳۳؍ بچے خسرہ سے متاثر پائے گئے ہیں۔  انہوں نےمزید کہا کہ خسرہ کی بیماری کرلا کے علاقے میں پھیل رہی ہے لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔  البتہ اگر کوئی بچہ خسرہ سے متاثر ہوتا ہے  تو ان کے والدین کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر ڈاکٹروں سے رابطہ قائم کریں اور ۹؍ ماہ سے لے کر ۱۶ ؍ماہ کے درمیان کے بچوں کو خسرہ ٹیکہ سمیت دوسرے ٹیکے ضرور لگاوائیں ۔ 
ممبرا میں بھی میٹنگ 
 ممبرا میں خسرہ سے متاثرہ بچے پائے جانے سے فکر مند تھانے میونسپل صحت کے افسران  نے کوسہ میونسپل اسکول میں  اساتذہ ، مقامی ڈاکٹر اور سرپرستوںکی میٹنگ بلائی ۔ اس میٹنگ میںڈپٹی میونسپل کمشنر منیش جوشی نے کہا کہ ’’ جس وقت کورونا ممبئی ،مہاراشٹر ،ملک و بیرون  ملک میں پھیلا ہوا تھا اس وقت ممبرا میں کورونا کا کوئی مریض نہیں ملا تھا لیکن افسوس کہ ممبرا میں خسرہ سے متاثرہ مریض مل رہے ہیں۔ کلوا میونسپل اسپتال میں خسرہ سے متاثرہ  ۹؍ زیر علاج بچوں میں سے ۷؍ ممبرا کے ہیں۔ سبھی اساتذہ ، نجی ڈاکٹر اور غیر سرکاری تنظیموں کے  رضاکاروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ  عوام کو بیدار کریں کہ خسرہ کا ٹیکہ بچوں کیلئے مضر نہیں بلکہ خسرہ سے بچائے گا ۔گھر گھر جاکر بھی والدین اور سرپرستوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ٹیکہ لگانے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK