وزارت خزانہ کا اعتراف ،لاک ڈائون کے سبب معاشی حالات دگرگوں

Updated: August 05, 2020, 11:21 AM IST | Agency | New Delhi

مختلف ریاستوں کے ذریعے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق لاک ڈائون کے نفاذ نے معیشت میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے ، حالات بہتر ہونے کیلئے دسمبر تک انتظار کرنا پڑسکتا ہے

Lockdown - Pic : PTI
متعدد ریاستوں کے لاک ڈائون نے معاشی صورتحال کو غیر یقینی بنادیا ہے۔(تصویر: پی ٹی آئی

لاک ڈائون سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اس کا اندیشہ کئی ریٹنگ ایجنسیوںنے ظاہر کیا تھا اور اب یہ بات خود وزارت مالیات کو تسلیم کرنی پڑ رہی ہے کہ لاک ڈائون نے معاشی صورتحال کو دگرگوں کردیا ہے۔ حالات کو پٹری پر لانے کے لئے دسمبر تک کا استعمال کرنا پڑ سکتا  ہے۔ وزارت مالیات نے جولائی کے لئے معاشی صورتحال کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا اور کہا کہ ریاستوں کی جانب سے اپنی ضرورت کے لحاظ سے لاک ڈائون نافذ کئے جانے کی وجہ سے معاشی سطح پر صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔ مختلف ریاستوں کے لاک ڈائون نے کئی جگہوں پر مینوفیکچرنگ کا کام دوبارہ شروع کرکے پھر روک دیا ہے  جبکہ سپلائی چین اور ایسے ہی دیگر سرگرمیاں پھر سے متاثر ہو رہی ہیں۔ 
 واضح رہے کہ ۵؍ اگست سے اَن لاک کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے جس میں اسکول، کالج ، سوئمنگ پولس اور تھیٹرس چھوڑ کر تقریباً تمام  سرگرمیاں بحال کرنےکی اجازت دی گئی ہے لیکن اس دوران بھی ریاستوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حساب سے فیصلہ کریں۔ اسی وجہ سے وزارت مالیات کو یہ تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ معیشت کی صورتحال بہتر نہیں ہو پا رہی ہے۔اس کے لئے  ملک کو دسمبر تک یا اس کے بعد تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ وزارت مالیات نے یہ اندازہ بھی دیا کہ اس مالیاتی سال میں ملک کی معیشت ۲۰؍ فیصد تک سکڑ جائے گی جس سےمعاشی ریکوری میں وقت لگے گا۔ 
 وزارت مالیات نے واضح کیا کہ اس وقت اکنامی میں ڈیمانڈ دیہی علاقوں سے سامنے آرہی ہے۔ اسے بہتر بنانے اور معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے دیہی سیکٹر پر زیادہ سے زیادہ دھیان دینا ہو گا۔ اس کے لئے حکومت نے گزشتہ مہینوں میں کچھ اہم اعلانات کئے تھے جن کا فائدہ اسے اب ملتا ہوا نظر آرہا ہے لیکن شہری سیکٹر میںڈیمانڈ میں کمی نے حکومت کو فکر مند کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے متعدد اعلانات کئے گئے ہیں لیکن  صارفین کا بھروسہ اکنامی پر دوبارہ واپس لانا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ اس وقت حکومت کی کوشش  ہے کہ سب سے پہلے شہری علاقوں میں خرچ میں اضافہ کیا جائے۔ یہاں پر ڈیمانڈ بڑھانے کے لئے صارفین کی جانب سے بھی خرچ بڑھنا چاہئے اور چھوٹی چھوٹی فائنانس کمپنیوں کی جانب سے بھی ضرورت کے مطابق قرض کی فراہمی جاری رہنی چاہئے۔ اس سے مارکیٹ میں ڈیمانڈ بڑھے گی ۔ فی الحال یہ ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔  واضح رہے کہ اس وقت ملک کی معیشت ۲ء۷۲؍ لاکھ کروڑ ڈالرس تک پہنچ چکی ہے ۔ اس سال کی شروعات میں یہ ۲ء۹۶؍ لاکھ کروڑ تھی ۔  کورونا وائرس نے اسے زوردار جھٹکے دئیے ہیں جس کی وجہ سے اس کی ریکوری بہت مشکل ہو تی جارہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK