کورونا پر کانگریس کا وہائٹ پیپر، بی جے پی بوکھلا گئی

Updated: June 23, 2021, 8:12 AM IST | New Delhi

راہل گاندھی نے پہلی اور دوسری لہر میں بد نظمی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، تیسری لہر کی تیاری کیلئے مشورے دیئے، متنبہ کیا کہ وزیراعظم کے آنسو جانیں نہیں  بچاسکتے

Rahul Gandhi speaking at an online press conference. Picture:PTI
راہل گاندھی آن لائن پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویرپی ٹی آئی

 ملک میں کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے طبی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور ٹیکہ کاری کوجنگی پیمانے پر  تیزکرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کانگریس   کے سابق صدر راہل گاندھی  نےپیر کو وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ان کے آنسو کسی کی جان نہیں بچاسکتے، ہاں آکسیجن  کے ذریعہ جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کورونا کی صورتحال پر کانگریس کی جانب  سے ۱۵۰؍ صفحات پر مشتمل کتابچہ کی شکل میں قرطاس ابیض  ( وہائٹ پیپر) جاری کیا ۔  وہائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے راہل گاندھی نے بغیر کسی  لاگ لپیٹ کے کہا ہے کہ ’’یہ بہت واضح ہے کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر سے جس طرح نمٹا گیا وہ تباہ کن تھا۔‘‘ صبح ۱۱؍ بجے جاری کئے گئے وہائٹ پیپر اور میڈیا کے نمائندوں سے راہل گاندھی کی بات چیت سے بی جے پی بوکھلاگئی ہے۔ پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے کانگریس پر کورونا پر سیاست کرنے کا الزام لگایا جبکہ  اسمرتی ایرانی نے راہل گاندھی کو ’’گیانی بابا‘‘ کہہ کر اُن کا مذاق اڑایا۔ 
آنسو جان نہیں بچاسکتے: راہل گاندھی
 دوسری لہر کے دوران ملک بھر میں افراتفری اور آکسیجن کی کمی کے وقت مغربی بنگال کی انتخابی مہم  میں مصروف رہنے اور بعد میں قوم کےنام خطاب میں آنسو بہانے پر وزیراعظم نریندر مودی کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے راہل گاندھی نےدوٹوک لہجے میں کہاہے کہ ’’وزیراعظم  کے آنسو ان کے آنسوؤں کو نہیں پونچھ سکتے جنہوں  نے اپنے چہیتوں کو کھو دیا ہے۔ وزیراعظم کے آنسوؤں سے ان  افراد کی جانیں بھی نہیں بچائی جا سکتیں  جو ہلاک ہوگئے البتہ آکسیجن سے یہ جانیں  بچائی جاسکتی تھیں۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کورونا کی دوسری لہر کو سنجیدگی سے نہیں لیا ،اس دوران ان کی توجہ کہیں اور تھی کیوں کہ وہ بنگال کا الیکشن لڑ رہے تھے۔ 
پہلی اور دوسری لہر کے تباہ کن ہونے کی وجوہات بتائیں
  کانگریس کے سابق صدر نے کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے تباہ کن ہونے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں’’ جن کی جانب پارٹی نے وہائٹ پیپر میں نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ انہوں نے حکومت کو آگاہ کیا کہ کانگریس کی جانب سے پیش کئے  جانے والے دستاویز کو سنجیدگی سے لے کر کورونا کی تیسری لہر سے نمٹا جاسکتاہے۔ راہل گاندھی کے مطابق’’یہ اس بات کا بلیو پرنٹ ہے کہ کورونا  کی تیسری لہر سے کیسے نمٹیں۔ ہمار امقصد صرف حکومت کو آگاہ کرنا اور  یہ بتانا ہے کہ غلطی کہاں ہوگئی تھی۔‘‘ وہائٹ پیپر جاری کرنے کے موقع پر آن لائن پریس کانفرنس میں  کانگریس لیڈر  نے یہ بھی واضح کیا کہ اس قرطاس ابیض کا مقصد حکومت پر انگلی اٹھانا نہیں ہے بلکہ تیسری لہر سے نمٹنے میں قوم کی مدد کرنا ہے جو آنے ہی والی ہے۔ اس جانب متوجہ کرتے ہوئے کہ وائر س ہوشیار ہے اور تیزی سے  اپنی ہیت بدل رہاہے، راہل گاندھی نے کہاہے کہ ’’اگر دوسری لہر بد تھی تو تیسری بدتر ہوگی۔‘‘بعد میں  انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’کووڈ-۱۹؍ پرہمارے وہائٹ پیپر کا مقصد آگہی اور معلومات کی فراہمی ہے تاکہ آنے والی لہر میں  جو موتیں ٹالی جاسکتی ہیں انہیں  واقعی ٹالا جاسکے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مثبت مشوروں پر قوم کی بھلائی کیلئے ضرور بہ ضرور عمل کرے۔‘‘
جلد از جلد۱۰۰؍ فیصد ٹیکہ کاری ضروری، معاوضہ پر بھی زور
 کانگریس کے سابق صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تیسری لہر سے نمٹنے کا سب سے موثر طریقہ ٹیکہ کاری ہے اور ملک کو جلد از جلد ۱۰۰؍ فیصد ٹیکہ کاری کا ہدف حاصل کرلینا چاہئے۔  انہوں  نے واضح کیا کہ ۵۰؍ فیصد آبادی کی ٹیکہ کاری کافی نہیں  ہوگی۔ کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ ’’ہمیں جلد از جلد ہر شہری کی ٹیکہ کاری مکمل کرلینی ہے اس کیلئے ہمیں ٹیکہ کاری کی مہم کو مشن کی شکل میں  جنگی پیمانے پر چلانا ہوگا۔‘‘ راہل گاندھی نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ٹیکہ کاری کے معاملے میں وہ  ریاستوں  کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے اور بی جےپی یا اپوزیشن کے اقتدار والی ریاست کی بنیاد پر امتیاز نہ برتے۔  راہل گاندھی نے تمام متاثرین کیلئے معاوضہ کی تجویز بھی پیش کی اور اس کیلئے فنڈ  کے باقاعدہ  قیام کا مشورہ دیا۔ 
راہل کے مشوروں پر بی جےپی بوکھلاگئی
 کانگریس کے ذریعہ جاری کئے گئے وہائٹ پیپر سے  مرکز میں برسراقتدار بی جےپی بوکھلا گئی ہے۔ پارٹی کے لیڈروں نے اسے مثبت انداز میں لینے کے بجائے کانگریس پر کورونا پر سیاست کرنے کا الزام عائد 

 بی جےپی نے کانگریس کے قرطاس ابیض کا جواب دینے کی ذمہ داری اپنے بدنام زمانہ ترجمان  سمبت پاترا کو دی جنہوں نے راہل گاندھی کی پریس کانفرنس کے چند ہی گھنٹوں بعد پریس کانفرنس کی۔انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں کل سے ہی اس کا ڈر تھا۔ جب بھی کورونا کے خلاف ہماری جنگ میں کچھ اچھا ہوتا ہے تو گانگریس اور خاص طور سے راہل گاندھی اسے پٹری سے اتارنے کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کرتے ہیں۔‘‘  واضح  رہے کہ پیر کو ملک میں ایک دن میں  ۸۷؍ لاکھ افراد کی ٹیکہ کاری ہوئی  جسے بی جےپی نے ٹیکہ کاری مہم میں سنگ میل قراردیاہے۔ سمبت پاترا نے الزام لگایا کہ وبا کے خلاف لڑائی کے آغاز سے ہی کانگریس پارٹی حکومت کے ہر قدم پر سوال اٹھا رہی ہے۔ کورونا سے نمٹنے کیلئے  مشوروں پراسمرتی ایرانی نے راہل گاندھی کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’گیانی بابا‘ کہہ کر پکارا جو ’دوسروں  میں  دانشوری کے موتی تقسیم کر رہا ہے۔ ‘ اسمرتی ایرانی نےکہا کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز ’’کانگریس کے اقتدار والی ریاستوں‘‘ سے ہوا اور سب سے زیادہ اموات بھی اسی ریاست میں درج ہوئیں جس پر کانگریس کی حکومت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK