کانگریس کا احتسابی اجلاس، پارٹی کی تنظیمِ نو پرگفتگو

Updated: May 14, 2022, 10:28 AM IST | Agency | Udaipur

پارٹی صدر سونیا گاندھی کا خطاب ، وزیر اعظم مودی کی ’خاموشی‘ اور حکومت کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا، اقلیتوں کیلئے آواز بلند کی ،انہیں ملک کے وسائل میں برابر کا حصہ دار قرار دیا

Congress President Sonia Gandhi was welcomed by senior party leaders Ashok Gehlot, Ghulam Nabi Azad and others..Picture:PTI
کانگریس صدر سونیا گاندھی کا پارٹی کے سینئر لیڈران اشوک گہلوت ،غلام نبی آزاد اور دیگر استقبال کرتے ہوئے۔تصویر: پی ٹی آئی

راجستھان کے ادے پور میں تقریباً ۴۰۰؍ کانگریس لیڈران کی شرکت کے ساتھ سہ روزہ  چنتن شیور(احتسابی اجلاس) کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس  اجلاس کے آغاز سے قبل کانگریس صدر سونیا گاندھی نے چشم کشا خطاب کیا جس میں پارٹی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا۔ اپنے خطاب میں سونیا نے بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک کے ماحول خاص طور پر اقلیتوں کے خلاف طومار باندھے جانے پر شدید تنقید کی اور اقلیتوں کو ملک کے وسائل پر برابر کا حقدار اور حصہ دار قرار دیا۔ 
سونیا گاندھی کے تیور 
     سونیا گاندھی نے پرعزم لہجے اور تیوروں کے ساتھ اس اجلاس کا افتتاح کیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک جن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اس پر غور کرنے کے  لئے یہ کیمپ ایک بہت اچھا موقع ہے۔ یہ ملک کے ایشوز پر غور و فکر اور پارٹی کے سامنے موجود مسائل پر خود احتسابی دونوں کے  لئے  بہترین  اسٹیج ہے۔ مودی سرکار نے حکومت اور گورننس کا جو نعرہ دیا ہے وہ انتہائی کھوکھلا ہے کیوں کہ نہ مودی حکومت سرکار چلانا جانتی ہے اور نہ اسے پالیسیوں کی کوئی خاص سمجھ ہے۔ اسی وجہ سے اب سرکار صرف اور صرف تقسیم کرو حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ 
اقلیتوں کیلئے آواز اٹھائی 
 ہندوستان میں اقلیتی طبقہ کے خلاف  جاری کارروائیوں کی  سونیا گاندھی نے شدید مذمت کی۔ انہوں نے  اپنے خطاب میں واضح لفظوں میں کہا کہ  اس  وقت ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا  جارہا ہے کہ لوگ لگاتار خوف اور عدم تحفظ کے احساس میں جی رہے ہیں۔ اقلیتی طبقہ کو شاطرانہ انداز میں ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقلیتی طبقہ ہمارے سماج کا ضروری حصہ  ہے اور ملک میں انہیں برابر کے حقوق حاصل ہیں لیکن بی جے پی کی قیادت والی حکومت انہیں مسلسل ہراساں کررہی ہے ، انہیں نشانہ بنارہی ہے ، ان کی املاک اور جان و مال کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ، انہیں ہر طرح سے  محصور و مقید کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں ناقابل برداشت ہے۔ کانگریس صدر نے دلتوں اور قبائلیوں پر ہو رہے حملوں کا  بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ملک کے پسماندہ طبقات، جن میں اقلیتیں ، دلت اور قبائلی افراد شامل ہیں ،کو حاشیے پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی  ہیں جنہیں رو کنا ضروری ہے۔ 
 بے روزگاری اور مہنگائی کیلئےسرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا 
 ملک میں لگاتار بڑھ رہی مہنگائی کیلئے سونیا گاندھی نے اپنے کلیدی خطبے میں مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ رسوئی گیس اور پیٹرول  و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ملک کے کروڑوں کنبے بے حال ہو گئے ہیں لیکن سرکار ان کے درد کے مداوے کے لئے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ ملک میں بڑھتی بے روزگاری کی طرف بھی سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں توجہ دلائی اور کہا کہ اس وقت ملک ایک طرف ریکارڈ مہنگائی سے جوجھ رہا ہے تو دوسری طرف ریکارڈ بے روزگاری کا سامنا بھی کررہا ہےلیکن ہمارے وزیر اعظم ان تمام موضوعات پھر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہیں ان معاملات اور موضوعات سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔وہ صرف نمائشی اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں اور ملک کا حال جو ہو رہا ہے اس پر انہیں کوئی ملال بھی نہیں ہے۔  اپنے خطاب میں سونیا گاندھی نے کمزور ہوتی کانگریس کو مضبوط بنانے کے پختہ عزائم کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مضبوط تنظیم سے وقت وقت پر  بہتر سے بہتر مظاہرہ کی امید کی جاتی رہی ہے اور ہر بار ہماری تنظیم نے اثردار طریقے سے اپنا کام کیا ہے ۔ ایک بار پھر ہم سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ہم اپنی بہادری، حوصلہ اور اعتماد کا مظاہرہ کریں۔ لیکن آج ہماری تنظیم کے سامنے جو حالات پیدا ہوئے ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ اس بات کو میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ان غیر معمولی حالات کا مقابلہ ہم غیر معمولی طریقے سے ہی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر تنظیم کو نہ صرف زندہ رہنے کیلئے بلکہ آگے بڑھنے کے لئے بھی اپنے اندر تبدیلی لانی ہوتی ہے، اور ہمیں بھی تنظیم میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ پالیسی میں تبدیلی، روزانہ کام کرنے کے طریقے میں تبدیلی، یہ سب سے بنیادی ایشو ہے جس کی طرف توجہ دی جائے گی۔ لیکن میں یہ بھی زور دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری تنظیم نو  صرف اجتماعی کوشش سے ہی ہو پائے گی اور وہ عظیم اجتماعی کوششیں نہ ٹالی جا سکتی ہیں اور نہ ہی ٹلیں گی ۔ یہ کیمپ اس طویل سفر میں ایک اثردار قدم ہوگا۔ پارٹی نے ہم سبھی کو بہت کچھ دیا ہے، اب وقت ہے قرض اتارنے کا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس سے الگ کسی اور لفظ کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK