• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تجارتی معاہدہ پر کانگریس نے پھر تنقید کی

Updated: February 23, 2026, 10:09 AM IST | New Delhi

کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نےمودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کو یکطرفہ قرار دیااور اسے ملک کے کسانوں  کیلئے پھانسی کا پھندابتایا، ۳؍اہم سوالات قائم کئے۔

Jairam Ramesh has raised tough questions with the Modi government on the trade deal. Photo: INN
جئے رام رمیش نے ٹریڈ ڈیل پر مودی حکومت سے سخت سوالات کئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے اتوار کے روز ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور کسان دشمن قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان حالات کے حوالے سے جن میں یہ معاہدہ طے پایا، وزیراعظم نریندر مودی سے ۳؍ سوالات کیے ہیں۔ 
ایک بیان میں جے رام رمیش نے کہا، معاہدہ کرنا ٹھیک ہے، لیکن یہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ ڈیل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستان صرف دیتا رہے گا اور بدلے میں کچھ حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے غیر متناسب رعایتیں دی ہیں، جن میں امریکہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے اور روس سے تیل کی خریداری روکنے کا عہد شامل ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم امریکہ سے اپنی درآمدات کو تین گنا کر دیں گے اور روس سے تیل نہیں خریدیں گے۔ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوا؟ 
اس معاہدہ کو زرعی مفادات کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئےجئے رام رمیش نے کہا، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک یکطرفہ معاہدہ ہے، یہ کسانوں کے گلے میں پھندے کی مانند ہے۔ یہ کسان دشمن معاہدہ ہے۔ جے رام رمیش نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی۲؍فروری کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ’’وزیراعظم نریندر مودی سے دوستی اور احترام کی خاطر اور ان کی درخواست پر امریکہ نے فوری اثر سے تجارتی معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ‘‘کانگریس لیڈر نے مزید کہا، ’’ہمارے پاس وزیراعظم کیلئے تین بالکل سادہ اور براہِ راست سوالات ہیں۔ صدر ٹرمپ واضح طور پر کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی درخواست پر امریکہ اس تجارتی معاہدہ پر اتفاق کر رہا ہے اور اسے فوری طور پر نافذ کر رہا ہے۔ ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ:۲؍ فروری کو آخر کیا ہوا تھا؟ وہ کیا مجبوری تھی جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو اس معاہدے کا اعلان کرنا پڑا؟ کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نےٹیرف سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے سے آگاہ ہونے کے باوجود عجلت میں کام لیا۔ انہوں نے پوچھا، آپ جانتے تھے کہ امریکی سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنانے والی ہے، تو آپ نے اتنی جلدی کیوں کی؟جئے رام رمیش کے مطابق، عدالت کے فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے محصولات کو۱۸؍ فیصد سے کم کر کے ۱۰؍ فیصد کر دیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے دوسرا سوال کرتے ہوئے کہا، اب جبکہ صدر ٹرمپ نے ٹیرف بدل دیا ہے، تو کیا آپ ہمت دکھائیں گے اور کہیں گے کہ زراعت پر لگائے گئے ٹیکس کو یا تو ختم کیا جائے یا کم کیا جائے؟ جئے رام رمیش نے تیسرا سوال روس سے ہندوستان کی تیل کی درآمدات سے متعلق پوچھا، صدر ٹرمپ بار بار کہتے ہیں کہ آپ نے روس سے تیل نہ خریدنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ آپ کہتے ہیں کہ ہم اسے خریدیں گے، تو سچ کیا ہے؟ آپ اسے کیوں چھپا رہے ہیں ؟ جئے رام رمیش کے بقول ایک حقیقی سودے میں باہمی لین دین ہونا چاہیے۔ متوازن سودے کا مطلب توازن ہے لیکن جب آپ لیتے کم اور دیتے زیادہ ہیں جیسا کہ اس میں ہوا ہے تو اسے معاہدہ نہیں ’ڈیل ‘کہہ سکتے ہیں ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK