• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کانگریس ، بی جےپی اور بی آر ایس ایک دوسرے پر حملہ آور

Updated: November 19, 2023, 8:22 AM IST | Agency | Hyderabad

تلنگانہ میں انتخابات قریب آتے ہی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ،وزیر اعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ کانگریس اور بی جےپی دونوں بی آر ایس کو روکنا چاہتے ہیں تاکہ پارٹی کی سرگرمیوں کا دائرہ مہاراشٹر تک نہ پھیل جائے ،ملکارجن کھرگے نے کہاکہ جھوٹ بولنے میں کے سی آر مودی کے بھی باپ ہیں،امیت شاہ نےکہا کہ کانگریس اوربی آر ایس پسماندہ طبقات کے خلاف ہیں۔

Mallikarjun Kharge. Photo: INN
ملکارجن کھرگے۔ تصویر : آئی این این

تلنگانہ میں۳۰؍ نومبر کو ہونے والی پولنگ سے قبل انتخابی ماحول پوری طرح گرم ہوچکا  ہے اور کانگریس ، بی جے پی اور بی آر ایس ایکدوسرےپر شدید الزام تراشی کررہے ہیں۔تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ(کے سی آر) نے سنیچر کوبی جے پی اور کانگریس  پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ  بی جےپی اور کانگریس دونوں بی آر ایس کو روکنا چاہتے ہیں کہ اس کی سرگرمیوں کا دائرہ مہاراشٹر تک نہ پھیل جائے۔ ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راؤ نے دونوں قومی  پارٹیوںپر حملہ کرتے ہوئےکہا کہ تلنگانہ کانگریس کے دور حکومت میں برباد ہو گیا تھا جبکہ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت نے ریاست میں ایک بھی میڈیکل کالج یا نوودیا اسکول کی منظوری نہیں دی ہے۔ اس سے قبل ایکس پوسٹ پرتلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے اس بیان پر کانگریس نے شدید تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا وہ ریاست کا وزیر اعلیٰ کسی دلت کو بنانے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکے کیونکہ ان کے مطابق ابھی کسی دلت کو وزیر اعلیٰ بنانے کا وقت نہیں آیا ہے۔ کانگریس اس بیان کے حوالے سے کے سی آر کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دلتوں کی  اس طرح توہین  نہیں کرسکتے کہ وہ تلنگانہ کانظم سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں۔
کانگریس  کے سی آر  کےخلاف الیکشن کمیشن میں شکایت کریگی
تلنگانہ کانگریس نے بی آرایس سربراہ  اوروزیراعلیٰ کے  سی آرکی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی الیکشن کمیشن سے شکایت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔پی سی سی کے سینئر نائب صدر نرنجن نے میڈیا سے حیدرآباد میں بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کے سی آر اور سینئر لیڈرہریش راؤ نے کانگریس پارٹی اور اس کے انتخابی منشور کے خلاف توہین آمیز  تبصرے کئے ہیں۔انہوں نے بی آرایس کی جانب سے کئے گئے تبصروں کی بھی مذمت کی اور ایسے تبصرے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
ملکارجن کھرگے کے بی آر ایس اور بی جے پی پرا لزامات 
دوسری جانب کانگریس صدر نے جمعہ کو تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جےپی دونوں کو گھیرا ۔ ملکارجن کھرگےنےپہلے وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا کوئی بھی وعدہ پورا نہیںکیااوریہاں(تلنگانہ میں)ان کا باپ بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے اوروعدہ خلافی میںچندر شیکھرراؤ مودی کے باپ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جےپی تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہی نہیں ہےبلکہ وہ اندرونی طورپرکے سی آر حکومت کوہی سپورٹ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جےپی مل کر الیکشن لڑرہے ہیں۔
 کے سی آر  نے جھوٹی یقین دہانیوں میں ورلڈریکارڈ بنایا:شاہ
مرکزی وزیرداخلہ اوربی جے پی کے سینئرلیڈرامیت شاہ نےتلنگانہ کے گدوال میں کہا کہ حکمراں جماعت بی آرایس نے جھوٹی یقین دہانیوں میں ورلڈ ریکارڈبنایا ہے۔انہوں نےعوام سے اپیل کی کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ انہیں ڈبل انجن کی حکومت کے تحت ترقی چاہئے یا پھروزیراعلیٰ  چندرشیکھرراؤ کے جھوٹے وعدے ۔مقامی ترقی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی آرایس حکومت نے اپنے ساڑھے ۹؍ سالہ دورحکومت میں جورالہ جیسے کسی بھی آبپاشی پروجیکٹ کومکمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ گدوال میں۳۰۰؍بستروں والا اسپتال قائم کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیاگیا۔بعد ازاں امیت شاہ نے نلگنڈہ ضلع میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ کے سی آرکی کار(حکمران جماعت بی آرایس کا انتخابی نشان) اور کمیشن والی حکومت کوگیریج بھیجنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ضلع میں شیوانندگوڑم اور برہمن ویلم جیسے پروجیکٹوںکی تکمیل کے ایک بھی وعدہ کو پورانہ کرنے پر بی آرایس حکومت پر تنقید کی۔انہوں نے کہاکہ نلگنڈہ اربن علاقہ میں۴۰؍کروڑروپے کے ترقیاتی پروجیکٹ میں رشوت خوری کی گئی ہے۔اس پروجیکٹ کو مرکز نے منظور کیا تھا۔ امیت شاہ کانگریس اور بی آر ایس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی پارٹیاں پسماندہ طبقات  کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے برسراقتدارآنے پر۱۷؍ستمبر کو سرکاری طورپر یوم آزادی تلنگانہ کی تقریب منائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK