• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قانونی محاذ پرکانگریس کی مہم، چار بڑے پروگرام کااعلان

Updated: February 23, 2026, 11:15 PM IST | New Delhi

اس کوشش کے تحت کانگریس کا مقصد نوجوان وکلاء کو پارٹی کے مرکزی دھارے سے جوڑنا اور حق اطلاعات قانون کوپھر سے مضبوط بنانا ہے

Congress RTI wing head Abhishek Manu Singhvi and treasurer Ajay Maken
کانگریس کےآر ٹی آئی شعبے کے سربراہ ابھیشیک منو سنگھوی اور خازن اجے ماکن

کانگریس کے خزانچی اور رکن پارلیمان اجے ماکن اور پارٹی کے قانون، انسانی حقوق و آر ٹی آئی شعبے کے سربراہ ابھیشیک منو سنگھوی نے نوجوان وکلاء کو پارٹی کی مرکزی دھارے سے جوڑنے اور حقِ اطلاعات قانون کو مضبوط بنانے کیلئے چار نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ دونوں قومی لیڈروں نےایک دن قبل مشترکہ پریس بریفنگ میں پارٹی کی اس نئی مہم کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں شفافیت، آئینی اقدار اور اختلافِ رائے کے حق کا دفاع ناگزیر ہو چکا ہے،اسلئے اس کے خلاف ڈٹ کر کام کرنا ہوگا۔
 ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ آر ٹی آئی قانون۲۰۰۵ء ایک تاریخی قدم تھا جس نے شہریوں کو عوامی اداروں سے جواب طلبی کا اختیار دیا، مگر وقت کے ساتھ اس قانون کو بتدریج کمزور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس قانون کی اصل روح کی بحالی کیلئے منظم اور قومی سطح کی کوشش شروع کر رہی ہے۔
 اس سلسلے میں پہلا پروگرام ’’آئی این سی لیگل فیلوز پروگرام‘‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ تین ماہ پر مشتمل پروگرام ہوگا جس کے تحت ۱۰؍ نوجوان وکلا کو منتخب کر کے انہیں پارلیمانی سرگرمیوں میں براہِ راست شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ منتخب فیلوز اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ روزمرہ کے کام میں معاونت کریں گے تاکہ نئی نسل کو حزبِ اختلاف کے کردار اور قانون سازی کے عمل کی عملی سمجھ حاصل ہو سکے۔
 دوسرا اقدام قانون، انسانی حقوق اور آر ٹی آئی شعبہ کی پوڈکاسٹ سیریز ’نیائے نیتا اور ناگرک‘ ہے۔ اس سیریز میں سینئر وکلا، ماہرینِ قانون اور نوجوان وکلا کو مختلف سماجی اور آئینی موضوعات پر اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سنگھوی نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں کم از کم ۱۰؍ اقساط پیش کی جائیں گی اور پہلی قسط جلد جاری کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم کا مقصد آئینی مکالمے کو فروغ دینا اور شہریوں کو مرکزِ نگاہ بنانا ہے۔
 تیسرا پروگرام ’ریپڈ رسپانس فورس‘ کے قیام سے متعلق ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر ضلع میں کم از کم ۵؍ وکلا کی دستیابی یقینی بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے، تاکہ پارٹی کے کسی بھی لیڈر کو ضرورت پڑنے پر فوری قانونی مدد فراہم کی جا سکے۔ اس مقصد کیلئے مختلف ریاستوں سے موصولہ ناموں پر مشتمل ایک ڈیجیٹل ڈائریکٹری تیار کی جا رہی ہے اور ذمہ داریاں مرحلہ وار سونپی جائیں گی۔
 چوتھا اہم اعلان آر ٹی آئی قانون کی بحالی کیلئے قومی کانکلیو کے انعقاد سے متعلق ہے۔ اس کانکلیو میں سابق انفارمیشن کمشنرز، ماہرینِ قانون، سول سوسائٹی نمائندگان، صحافیوں اور پالیسی ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں موجودہ قانونی و انتظامی خامیوں کا جائزہ لے کر ٹھوس سفارشات تیار کی جائیں گی۔ اس عمل کے اختتام پر ایک جامع رپورٹ جاری کی جائے گی جسے عوام، قانون سازوں اور متعلقہ فریقین کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
 اجے ماکن اور ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ یہ اقدامات نوجوان قانونی ذہنوں کو آگے لانے، زمینی سطح پر قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے اور جمہوری اداروں کے استحکام کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کی وجہ سے قانونی محاذ پر اچھا کام ہوگا۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK