وزیراعظم مودی دو روزہ دورے پر ۲۵ فروری کو اسرائیل پہنچیں گے۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ سے خطاب کریں گے۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi
وزیراعظم مودی دو روزہ دورے پر ۲۵ فروری کو اسرائیل پہنچیں گے۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ سے خطاب کریں گے۔
کانگریس نے منگل کو وزیراعظم نریندر مودی کے مجوزہ دورہ اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ پارٹی نے مودی حکومت پر الزام لگایا کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اس نے مسئلہ فلسطین پر اپنی روایتی موقف کو ترک کر دیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت فلسطینیوں کے ساتھ اپنی وابستگی کے بارے میں ”عیارانہ اور منافقانہ“ بیانات دیتی ہے جبکہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی بے دخلی کی طرف بھی اشارہ کیا، جو عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
رمیش نے کہا کہ مودی کا دورہ ایسے وقت میں اسرائیل کی طرف سفارتی جھکاؤ کا اشارہ ہے جب غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتیں اور انسانی صورتحال عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تناؤ کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ اس دورے کا وقت خطے میں ملک کی خارجہ پالیسی کے توازن پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے سب سے بڑے بیف ایکسپورٹر کا بی جے پی کو بڑا عطیہ، بحث تیز
کانگریس لیڈر نے نوٹ کیا کہ ہندوستان ۱۹۸۸ء میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ورثے نے ہندوستان کی موجودہ پالیسی کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین پر نئی دہلی کے عوامی پیغامات اور اسرائیل کے ساتھ اس کی قریبی سیاسی وابستگی میں تضاد پایا جاتا ہے۔
وزیراعظم مودی دو روزہ دورے پر ۲۵ فروری کو اسرائیل پہنچنے والے ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیل کی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ سے خطاب بھی کریں گے۔
اس دورے نے اسرائیل کے اندر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، مبینہ طور پر اپوزیشن پارٹیوں نے نیتن یاہو کی اندرونی پالیسیوں اور عدلیہ کی آزادی پر جاری بحث کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ اپوزیشن لیڈران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ضابطے کے اصولوں پر عمل نہ کیا گیا تو وہ پارلیمنٹ میں مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی جیلوں میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم نمائندگی انتہائی کم
حکومت نے کانگریس کی تنقید پر عوامی سطح پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ حکومت کا موقف رہا ہے کہ ہندوستان مسئلہ فلسطین کے ’دو ریاستی حل‘ کی حمایت کرتا ہے اور ساتھ ہی دفاع، ٹیکنالوجی اور تجارت میں اسرائیل کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات جاری رکھے ہوئے ہے۔