کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ملک کی خستہ معاشی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ، پیٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت پر سوال اُٹھائے
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 12:58 AM IST | New Delhi
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ملک کی خستہ معاشی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ، پیٹرول ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمت پر سوال اُٹھائے
مرکز کی مودی حکومت ملک میں بڑھتی مہنگائی کیلئے موجودہ عالمی حالات کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہےلیکن کانگریس نے اس بات کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نےایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ ملک میں جو بحران آیا ہے، اس کے پیچھے دنیا میں چل رہی جنگ ذمہ دار ہےلیکن ہندوستان کی معیشت پہلے سے ہی ٹھیک نہیں چل رہی تھی، جس کی وارننگ ہم کئی سال سے دے رہے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جمہوریت میں اپوزیشن اور میڈیا وہ آئینہ ہوتا ہے جو اقتدار کو سچائی دکھاتا ہے۔ افسوس کہ سچ سے ڈرنے والی مودی حکومت اس آئینہ کو توڑ رہی ہے۔‘‘
میڈیاکے نمائندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’جھوٹ آئینہ سے ڈرتا ہے۔ نریندر مودی نے ۱۲؍سال سے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ ہمارا میڈیا کہیں انہیں آئینہ نہ دکھا دے۔ نریندر مودی ملک کو نصیحت دے کر خود ۵؍ ملکوں کےسفر پر چلے گئے۔ اس سے پہلے گجرات میں لمبا چوڑا روڈ شو بھی کیا۔‘‘ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی کے دوسرے لیڈران بھی کم نہیں ہیں۔ ہر دن تصویریں آ رہی ہیں کہ بی جے پی لیڈران خود بس یا بائک پر چل رہے ہیں اور پیچھے ان کی گاڑیوں کا پورا قافلہ آ رہا ہے۔ یہ لوگ عوام کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔‘‘
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے کھیڑا نے کہا کہ ’’گزشتہ ۱۲؍ سال میں پیٹرول کی قیمت ۳۸؍ فیصد بڑھی ہے اور ڈیزل کی قیمت میں ۶۲؍ فیصد اضافہ ہوا۔ ہمارا سوال یہی ہے کہ اُس وقت کون سی جنگ چل رہی تھی، تب کون سے گلوبل فیکٹر تھے؟‘‘ منموہن حکومت کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’جب ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کے وقت خام تیل کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر تک پہنچ گئی تھی تب بھی ان کی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کو ۷۰؍ روپے سے اوپر نہیں جانے دیالیکن مودی حکومت میں جب خام تیل۵۰؍ ڈالر چل رہا تھا، تب حکومت نے پیٹرول ۱۰۰؍ روپے لیٹر میں فروخت کیا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج حالات یہ ہیں کہ اتھنال ملا ہوا گھٹیا پیٹرول ۱۱۰؍ روپے لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو ہماری گاڑیوں کے انجن کو برباد کر رہا ہے۔ ‘‘رسوئی گیس کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے بارے میں بھی کانگریس لیڈر نے میڈیا والوں کے سامنے اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’۲۰۱۴ء میں جو ایل پی جی سلنڈر۴۱۴؍ روپے میں مل رہا تھا، وہ آج۹۱۵؍ روپے کا ہو گیا یعنی ۱۲۱؍ فیصد کا اضافہ۔ آج حالات یہ ہیں کہ دودھ اور بریڈ کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے، روپیہ لگاتار گرتے ہوئے ۹۷؍تک پہنچ گیا ہے۔‘‘