• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریتو برالا کیلئے کانگریس لائو لشکر کیساتھ میدان میں

Updated: October 22, 2026, 10:56 AM IST | Agency | Jaipur

این ایس یو آئی کی قومی سیکریٹری پر حملہ کیخلاف جے پور پولیس کمشنریٹ پر تیسرے دن بھی دھرنا، پولیس نے علاقہ کو چھائونی میں تبدیل کردیا، ڈوٹاسرا سمیت کئی لیڈر زیرِ حراست۔

Ritu Barala is sitting on a sit-in protest alongside Congress leaders outside the Jaipur Police Commissionerate. Photo: PTI
جے پور پولیس کمشنریٹ کے باہر ریتو برالا کانگریس لیڈروں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں پولیس کمشنریٹ کے دفتر پر کانگریس کا دھرنا بدھ کو تیسرے دن میں داخل ہوگیا۔ کانگریس کے سینئر  لیڈروں اور کارکنوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی قومی سیکریٹری ریتو برالا پرپولیس کے حملے کے معاملے میں زیرو ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس کمشنر یٹ پر دھرنا دے دیا ہے۔پارٹی لیڈران اور کارکنان وہیں دھرنے پربیٹھ گئے ہیں۔کانگریس لیڈروں کے تیور اور احتجاج کے پیش نظر پولیس کمشنریٹ کے اطراف بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کردئیے گئے   ہیں اور کسی بھی  بدامنی کو روکنے کے  لئے علاقے میں جگہ جگہ  بیریکیڈنگ کردی گئی ہے۔ 

ڈوٹا سرا کی قیادت میں احتجاج

راجستھان میں کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا  اس احتجاج کی قیادت کررہے ہیں۔ انہی کی وجہ سے پارٹی کارکنوںمیں اتنا جوش آگیا ہے کہ وہ براہ راست  انتظامیہ سے ٹکر لے رہے ہیں۔ ڈوٹا سرا نے   جے پورپولیس سے دہلی میں درج ایف آئی آر کی نقل فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریتو برالا پر حملے کے سلسلے میں دہلی میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے تو اس کی نقل دی جانی چاہئے، کانگریس فوراً اپنا احتجاج ختم کرکے واپس چلی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس کی جانب سے درج مقدمہ نوجوانوں کو پریشان کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور اس میں ریتو برالا پر حملے کے معاملے کا مناسب احاطہ نہیں ہوتا۔ اسی لئے ہم زیرو ایف آئی آر کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جب تک یہ پورا نہیں ہوتا ہم یہاں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ٹیکا رام جولی بھی احتجاج میں شامل 

راجستھان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ٹیکا رام جولی نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہلی یا راجستھان میں اب تک اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے تو پولیس کو مقدمہ درج کرنا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریتو برالا پر حملہ کیا گیا، انہیں اسپتال میں داخل ہونا پڑا، لیکن انصاف کے  لئے انہیں در دربھٹکنا پڑ رہا ہے۔پولیس ایک خاتون کے ساتھ یہ رویہ اختیار کررہی ہے۔ اس کا انہیں جواب دینا ہو گا۔ٹیکا رام جولی نے دفعہ ۱۷۳؍کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت زیرو ایف آئی آر درج کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق، پولیس کو شکایت درج کرکے اسے متعلقہ تھانے تک پہنچانا چاہئےلیکن ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پولیس معاملے میں کارروائی کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

ریتو برالا نے کیا کہا ؟

پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر زدو کوب جھیلنے والے این ایس یو آئی لیڈر ریتو برالا جو خود بھی اس دھرنے میں موجود ہیں، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طورپر اپنی گردن اور ہاتھ کے زخم دکھائے اور کہا کہ انہیں بال پکڑ کر گھسیٹا گیا، پولیس وین میں ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی جس میں ان کی گردن  اور ہاتھ میں چوٹ آئی ہے جبکہ جس کے دیگر حصوں میں بھی مار لگی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں پولیس بی جے پی کے کہنے پر صرف ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ جب تک کیس درج نہیں ہوجاتا ہم یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔

پولیس کا کیا کہنا ہے ؟

دوسری جانب، جے پور کے ایڈیشنل پولیس کمشنر ڈاکٹر اجے سنگھ نےکہا کہ اس معاملے میں زیرو ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی کیونکہ متاثرہ پہلے ہی متعلقہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کراچکی ہیں اس لئے اب ضرورت نہیں ہے۔ 

  دھرنا ختم کرنے کا اعلان 

بدھ کی شام کانگریس نے تین دن سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ زیرو ایف آئی آر کے معاملے میں عدالت سے رجوع کرے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے زیرو ایف آئی آر درج نہ کرنے کا موقف قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے۔ اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ پارٹی کی جانب سے کمشنر کو مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم سونپا گیا اور واضح کیا گیا کہ پولیس کی نااہلی پر خاموش نہیں رہا جائیگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK