• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

والوج: بیویوں کےستائے شوہروں نے ’راون‘ کے بجائے ’شُورپ نکھا‘ کا پتلا جلایا

Updated: October 22, 2026, 12:27 PM IST | Agency | Aurangabad

ضلع کےوالوج میں ’مین کمیشن‘ کے قیام کے مطالبے کے تحت ’بیوی سے متاثر مردوں کے آشرم‘ نامی تنظیم نے وجے دشمی کے موقع پر راون کے بجائے ’شُورپ نکھا‘ کا پتلا نذرِ آتش کیا۔

Alleged `oppressed husbands` staged a protest in this manner before the `Shurpanakha Dahan` (burning of Shurpanakha). Photo: INN
’شورپ نکھا دَہن‘ سے پہلے مبینہ مظلوم شوہروں نے اس طرح احتجاج کیا۔ تصویر: آئی این این

ضلع کےوالوج میں ’مین کمیشن‘ کے قیام کے مطالبے کے تحت ’بیوی سے متاثر مردوں کے آشرم‘ نامی تنظیم نے وجے دشمی کے موقع پر راون کے بجائے ’شُورپ نکھا‘ کا پتلا نذرِ آتش کیا۔ تنظیم کے صدر بھارت پھلارے کا الزام ہے کہ بعض قوانین کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرکے مردوں اور ان کے اہلِ خانہ کو پریشان کیا جاتا ہے۔ تنظیم گزشتہ دس سال سے اس علامتی احتجاج کے ذریعے مرد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ جب تک مرد کمیشن قائم نہیں ہوتا، جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھئے:ایم ایل سی الیکشن: ۵؍ نشستوں کیلئے۲۳؍اکتوبر کو پولنگ

تنظیم کا کہنا ہے کہ جس طرح خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے کمیشن اور قانونی نظام موجود ہیں، اسی طرح مردوں کے مسائل سننے اور انہیں انصاف دلانے کیلئے بھی ایک آزاد کمیشن ہونا چاہیے۔ والوج میں واقع ’بیوی سے متاثر مردوں کی آشرم‘نامی تنظیم گزشتہ۱۵؍ برس سے مردوں کے حقوق کیلئے کام کر رہی ہے۔ بھارت پھلارے کے مطابق،  ہر وجے دشمی پر شُوَرپ نکھا کا پتلا جلا کر مرد کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دسہرہ پر راون کا پتلا جلانے کو برائی پر اچھائی کی جیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح تنظیم، خواتین میں موجود مبینہ بری رجحانات کے خلاف شُوَرپ نکھا کا پتلا جلا کر حکومت تک اپنا پیغام پہنچانا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK