Inquilab Logo Happiest Places to Work

عثمان آباد کےتلجا پورمیں کانگریس کی کسان سنگھرش یاترا

Updated: March 30, 2026, 11:34 PM IST | Mumbai

کسانوں کے قرض معاف کرنے ، سات بارہ کا مسئلہ حل کرنے اور فصلوں کو ایم ایس پی فراہم کرنے کے مطالبے کے تحت کانگریس کازبردست احتجاج

The rally can be seen passing through the Tuljapur Highway.
ریلی تلجا پور ہائی وے سے گزرتے ہوئے دیکھی جاسکتی ہے

مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں عثمان آباد کے تلجاپور میں کسان سنگھرش یاترا نکالی گئی ۔ سورت گاؤں سے تلجا پور تک نکالی گئی اس یاترا میںپارٹی کے لیڈران، عہدیداران، کارکنان، خواتین اور کسان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر ہرش وردھن سپکال نے مہایوتی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کسان قرض معافی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے محض ’کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک کسانوں کو عملی طور پر قرض معافی کا فائدہ نہیں ملتا، اس وقت تک ایسے اعلانات حقیقت نہیں سمجھے جا سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے زمین ریکارڈ یعنی سات بارہ کو مکمل طور پر کلیئر کیا جائے اور فصلوں کو ایم ایس پی فراہم کی جائے۔
 اس یاترا کا اختتام تلجا پور کے شاردا ہال میں ایک عوامی جلسے کے ساتھ ہوا۔ اس دوران ایل پی جی گیس کے بحران کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے گیس سلنڈروں سے لدے ٹریکٹر بھی شامل کیے گئے، جو اس پروگرام کا خاص مرکز توجہ رہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ موجودہ وقت میں کسان قدرتی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور کسانوں کی خودکشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے پر بھی انہوں نے تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ہندوستان کی زراعت اور کسانوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔انہوں نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور مہاراشٹر میں حکمرانی کا نظام انتشار کا شکار ہے۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ ایل پی جی سلنڈر، پٹرول اور ڈیزل جیسے بنیادی وسائل کی دستیابی بھی متاثر ہو رہی ہے، لیکن حکومت اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوری اقدار کو کمزور کر کے آمریت مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آئین کی روح کے برخلاف گولواکر کے نظریات کو نافذ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔خود ساختہ نجومی اشوک کھرات کے معاملے کو سپکال نے نہایت شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیواجی، شاہو، پھلے اور امبیڈکر کی ترقی پسند فکر رکھنے والی ریاست میں توہم پرستی کو بڑھاوا دینے کے باعث ایسے عناصر کو موقع مل رہا ہے۔اس معاملے میں صرف استعفیٰ لے کر معاملہ ختم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس میں ملوث تمام افرادکے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK