Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسنسول میں کانگریس کا رکن کا قتل، راہل کا ٹی ایم سی پر شدید حملہ

Updated: April 27, 2026, 11:23 AM IST | New Delhi

دیب دیپ چٹرجی کو ان کے بیوی اوربیٹے کے سامنے پیٹا گیا، بعد میں اسپتال لے جایاگیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردیا، راہل نے ٹی ایم سی کے دورکو غنڈہ راج قراردیا۔

Congress leader Rahul Gandhi has expressed his condolences to the family of Debdeep Chatterjee. Photo: INN
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دیب دیپ چٹرجی کے اہل خانہ سے تعز یت کا اظہار کیا ہے۔ تصویر: آئی این این

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مغربی بنگال کے آسنسول میں کانگریس کارکن دیب دیپ چٹرجی کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے کارکنان پر دیب دیپ کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مغربی بنگال میں آج جمہوریت نہیں بلکہ ٹی ایم سی کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔ راہل گاندھی نے اتوارکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کارکن دیب دیپ چٹرجی کا ووٹنگ کے بعد ٹی ایم سی سے وابستہ غنڈوں کے ہاتھوں قتل، انتہائی قابل مذمت ہے۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دیب دیپ کے اہل خانہ سے اپنی دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے لکھا ’’مغربی بنگال میں آج جمہوریت نہیں بلکہ ٹی ایم سی کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔ ووٹنگ کے بعد مخالف آوازوں کو ڈرانا، دھمکانا اور ختم کر دینا ہی اب ٹی ایم سی کا کردار بن چکا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: کمسنی کی شادی روکنے کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے گی

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کی سیاست کبھی تشدد پر مبنی نہیں رہی اور نہ کبھی ہوگی۔ ہم نے بھی اپنے کارکن کھوئے ہیں، اس کے باوجود ہم نے ہمیشہ عدم تشدد اور آئین کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہی ہماری وراثت ہے اور یہی ہمارا عزم ہے۔ ‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مطالبہ واضح ہے، تمام مجرموں کی فوری گرفتاری ہو، انہیں سخت ترین سزا دی جائے اور دیب دیپ کے خاندان کے لیے مکمل تحفظ اور معاوضے کو یقینی بنایا جائے۔ ‘‘ راہل گاندھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ہم اس سیاست کے سامنے نہیں جھکیں گے جو ہندوستان کی عدم تشدد کی روایت کو داغدار کرتی ہے۔ انصاف ہو کر رہے گا۔ ‘‘راہل گاندھی سے قبل کانگریس کی مغربی بنگال یونٹ نے الزام عائد کہ دیب دیپ پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس سے وابستہ شرپسندوں نے حملہ کیا اور انہیں بے رحمی سے پیٹا، جس کے کچھ ہی دیر بعد ان کی موت ہوگئی۔ کانگریس کی ریاستی اکائی کے مطابق دیب دیپ چٹرجی کو آسنسول نارتھ سے کانگریس امیدوار پرسین جیت پوئی تانڈی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’یہ افسوسناک واقعہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے اور مغربی بنگال میں اپوزیشن کارکنان کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑا کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ ووٹنگ کے فوراً بعد اس طرح کا تشدد ہوا، سیاسی دھمکیوں اور انتقامی جذبے کے ایک انتہائی تشویشناک رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: راگھو چڈھا اور دیگر کی رُکنیت کی منسوخی کیلئے اپیل داخل

آسنسول میں کیا ہوا؟ 
اطلاعات کے مطابق دیب دیپ چٹرجی کا آسنسول میں انتخابات کے بعد تشدد کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب یہ واردات ہوئی۔ ۴۳؍ سالہ دیب دیپ چٹرجی کی اہلیہ پیالی چٹرجی نے بتایا کہ رات ایک بجے کے آس پاس جب ہم سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد گھر لوٹ رہے تھےاورمیرے شوہر گاڑی چلا رہےتھے۔ اس دوران جب ہم آسنسول ٹاؤن میں ہمارے ہاؤسنگ کمپلکس کے قریب پہنچے تووہاں سڑک کنارے کھڑی ایک با ئیک سے ہماری گاڑی ٹکراگئی۔ ‘‘ انہوں نے مزید بتایا ’’ اس کے بعدوہاں قریب بیٹھے بدمعاشوں کاایک گروہ یہ دیکھ کرہمارے پاس آیا اورہماری گاڑی روک دی۔ میرے شوہرگاڑی سے باہر نکلے اورمعافی مانگی مگر وہ لوگ جھگڑا کرنے لگے۔ دیب دیپ نے اس کے بعد بھی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی اوران سے کہا کہ وہ مقامی کانگریس لیڈرپرسن جیت پوئی تانڈی کو بلاتے ہیں جو ان کی ہاؤسنگ کے سیکریٹری بھی ہیں مگروہ لوگ مشتعل ہوگئےاور اچانک میرے شوہر کو مارنے لگے۔ میں اورمیرے بیٹےنے ان سے ہاتھ جوڑ کر انہیں نہ مارنے کی گزارش کی مگر اس دوران ایک حملہ آور نے انہیں مکا مارا اوردھکیل دیا۔ وہ گرگئے، ان کے سر پر چوٹ لگی اور وہ بے ہوش ہوگئے۔ ‘‘اس کے بعدانہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ کانگریس نے اس کیلئے ترنمول کانگریس کو ذمہ دارقراردیا ہے۔ جبکہ ٹی ایم سی کے کونسلرانیمیش داس نے اس واقعے سے لا علمی کا اظہار کیا اوراس میں ترنمول کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK