Updated: April 27, 2026, 10:43 AM IST
| Solapur
شولاپور میں ایسے معاملات سامنے آنے پر چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن نے بیداری مہم تیز کرنے کامشورہ دیا ۔ ریاست کے تمام اضلاع میں ضلع مجسٹریٹ کے تحت خصوصی مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی ہے۔ شادی کارڈز پردلہادلہن کی تاریخ پیدائش تحریر کرنے کی حکومت سےسفارش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
راجستھان اور بہار میں انتظامیہ نےکمسنی شادی کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ریاست میں کمسنی کی شادی روکنے کیلئے ریاستی چائلڈ رائٹس پروٹیکشن فورس حرکت میں آگئی ہے۔ اس نے ریاستی حکومت سے شادی کارڈز میں تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے جس کے تحت اس پر دلہادلہن کی تاریخ پیدائش تحریر کرنے کو لازمی قرار دینا شامل ہے اور ایسے واقعات کو روکنے کیلئے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی جائے گی۔ اس کیلئے ۶؍ ہفتے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن نےیہ فیصلہ شولاپور میں کم عمری کے حالیہ کئی معاملات کی روشنی میں لیا جا رہا ہے۔ مذکورہ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ بچپن کی شادی اور بچوں کے جنسی استحصال کو روکنے کیلئے ریاست بھر میں بیداری مہم کو تیز کیا جانا چاہئے۔ مذکورہ کمیشن نے راجستھان کی طرز پرشادی کے کارڈ پر دلہا دلہن کی تاریخ پیدائش کو لازمی طور پرتحریر کرنے کی سفارش کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایس ایس کی مارک شیٹ پر طالب علم کی تاریخ پیدائش لکھنا لازمی ہے۔
چائلڈ رائٹس پروٹیکشن کمیشن کے رکن سنجے لاکھے پاٹل نے بتایا کہ شولاپور ضلع میں نابالغ لڑکیوں کے ماں بننے کے مشتبہ معاملات کی مشترکہ تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے ان مقدمات کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سنجے وشنو پرانک کی صدارت میں ۲۳؍ اپریل کو منعقدہ سماعت میں کمیشن نے اس تعلق سے مقدمات کا جائزہ لیا اور ضلع انتظامیہ کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ نوبھارت ٹائمز کی خبر کے مطابق سنجے پاٹل نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس اور تشویشناک ہے اور اس میں فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بعض معاملات میں بچوں کی شادی اور جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کے مقامی حکام اور دیگر متعلقہ محکموں کی جانب سے سنگین غفلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھگوا عناصر کا چہیتا اسلام دشمن سلیم واستک قتل کا مفرور مجرم نکلا
کمیشن نے ریاست کے تمام اضلاع میں ضلع مجسٹریٹ کے تحت ایک خصوصی مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے جس میں خواتین اور بچوں کے فلاح وبہبود، صحت، پولیس اور تعلیم کے محکموں کے افسران شامل ہیں۔ اس ٹیم کو تمام۸۵؍ معاملات کی تفصیلی تحقیقات کرنے، ذمہ داری کا تعین کرنے اور سخت کارروائی کی سفارش کرنے کو کہا گیا ہے۔
انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں ٹھوس ایکشن پلان پیش کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی کہ قصورواروں کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفنسز ایکٹ۲۰۱۲ء اور پرہیبیشن آف چائلڈ میرج ایکٹ۲۰۰۶ء کے تحت مقدمات درج کئے جائیں اور سخت کارروائی کی جائے۔
سنجے پاٹل کے مطابق یہ مسئلہ گزشتہ ۱۰؍ دن میں ایک سماجی تنظیم کی شکایت کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ۸۵؍ نابالغ لڑکیوں کے ماں بننے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ۱۵؍ کا تعلق شولاپور ضلع سے ہے۔
واضح رہے کہ کئی ریاستوں نےکمسنی کی شادی کو روکنے کیلئے پہلے ہی سخت اقدامات کئے ہیں۔ راجستھان اور بہار جیسی ریاستوں میں انتظامیہ نے شادی کے اندراج کے دوران عمر کا ثبوت لازمی قرار دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شادی کے کارڈز پر تاریخ پیدائش درج کرنا بچوں کی شادی کو روکنے کیلئے مددگار قدم ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے سماجی نگرانی بڑھے گی اور بچوں کی شادی جیسے جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔