کھرگے نے کہا: مودی حکومت ’وِکست بھارت‘‘نہیں بنارہی بلکہ ملک کو ’’وِناش‘‘کی طرف لے جارہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 10:58 AM IST | New Delhi
کھرگے نے کہا: مودی حکومت ’وِکست بھارت‘‘نہیں بنارہی بلکہ ملک کو ’’وِناش‘‘کی طرف لے جارہی ہے۔
منریگا کی منسوخی اور اس کی جگہ متعارف کرائے گئے’جی رام جی ایکٹ‘ کے خلاف کانگریس نے ۱۰؍ جنوری سے ۲۵؍ فروری تک ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں مختلف احتجاجی پروگراموں کے ذریعہ مودی حکومت پر اپنےفیصلے کو تبدیل کرنےکیلئے دباؤ ڈالے گا۔ اس بیچ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’وِکست بھارت‘‘ کی طرف نہیں بڑھ رہی ہے بلکہ ’’بھارت کے وناش‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے منریگا کی منسوخی کو ’’کروڑوں غریب مزدوروں کوکام کرنے کے بنیادی حق ‘‘ سے محروم کر دینے کی سازش قراردیا اور کہا کہ کانگریس پارٹی پنچایت سے پارلیمنٹ تک پرامن طریقے سے اس کا مقابلہ کریگی۔
۱۰؍ جنوری سے ۲۵؍ فروری تک کے ملک گیر ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کا اعلان کیا کرتے ہوئے جے رام رمیش نے اعلان کیا کہ اس تحریک کا مقصد’وی رام جی ایکٹ‘ کی منسوخی اور منریگا کی حقوق پر مبنی قانون کے طور پر بحالی نیز کام کے حق اور پنچایتوں کے اختیارات کی بحالی کا مطالبہ کرنا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال اور جے رام رمیش نے مشترکہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ’جی رام جی ایکٹ‘ کے ذریعہ مرکز نے تمام اختیارات اپنے پاس مرکوز کرلئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’’نئے قانون کے تحت روزگار اب حق نہیں رہ گیا‘‘ جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
وینوگوپال نے اس ایکٹ کو وفاقی ڈھانچے پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ ’’اس کے نفاذ کے تعلق سے ریاستوں سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا حالانکہ اس سے ان پر مالی بوجھ پڑےگا۔ ‘‘ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ’ ’منریگا بچاؤ سنگرام‘‘ کے ذریعے کانگریس کا مقصد کام کے حق کا دفاع، پنچایتی راج اداروں کا تحفظ اور خواتین مزدوروں، دلتوں، آدیواسیوں اور دیہی غریبوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اس مسئلے کو ملک کے ہر گاؤں تک لے جانا ہے۔
کانگریس جنرل سیکریٹری نے اعلان کیا کہ ’’ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ جی رام جی ایکٹ کو واپس لیا جائے اور منریگا کو اس کی اصل شکل وصورت میں حقوق پر مبنی قانون کے طور پر بحال کیا جائےتاکہ عوام کے کام کے حق اور پنچایتوں کے اختیارات بحال ہوں۔ انہوں نے تحریک کی تفصیل فراہم کی اور ’جی رام جی ایکٹ‘ کے نفاذ کواپوزیشن کی اقتدار والی ریاستوں میں روکنے کیلئے صلاح و مشورہ کا بھی اعلان کیا۔
احتجاج کا پروگرام ایک نظر میں
۱۰؍ جنوری: ضلعی ہیڈ کوارٹرس پر پریس کانفرنس
۱۱؍ جنوری: ضلعی ہیڈ کوارٹرس پر بھوک ہڑتال اور علامتی احتجاج
۱۲؍ تا ۲۹؍ جنوری: پنچایت کی سطح پر چوپالیں اور عوامی احتجاج
۳۰؍ جنوری: کام کے حق کیلئے وارڈ کی سطح پر پُرامن دھرنے
۷؍ فروری تا ۱۵؍ فروری: تمام ریاستوں میں ودھان سبھا کا گھیراؤ
۱۶؍ تا ۲۵؍ جنوری: مختلف شہروں میں ۴؍ بڑی ریلیوں کا اہتمام