Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوٹا سے طلبہ اور نوجوانوں کیلئے کانگریس کی ملک گیر تحریک کا دھماکہ دار آغاز

Updated: June 18, 2026, 7:55 AM IST | Kota

یہاں سےطلبہ اور نوجوانوں کیلئے کانگریس کی ملک گیر تحریک کا شاندار اور زوردار آغاز ہو گیا ۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کو للکارتے ہوئے کئی سخت حملے کئے۔

Rahul Gandhi addressing students in Kota. (Photo: PTI)
راہل گاندھی کوٹا میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

یہاں سےطلبہ اور نوجوانوں کیلئے کانگریس کی ملک گیر تحریک کا شاندار اور زوردار آغاز ہو گیا ۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کو للکارتے ہوئے کئی سخت حملے کئے۔ انہوں نے کھچاکھچ بھیڑ سے بھری طلبہ کی مہاریلی سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو چند مخصوص پیشوں تک محدود کر دیتا ہے حالانکہ ہر طالب علم کے اندر الگ صلاحیت اور الگ خواب موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر سےکنیا کماری تک اپنے سفر کے دوران جب وہ نوجوانوں سے پوچھتے تھے کہ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں تو زیادہ تر جواب چند روایتی شعبوں جیسے ڈاکٹر، انجینئر، سرکاری افسر یا اسی نوعیت کے دیگر پیشوں تک محدود ہوتے تھے۔
  راہل گاندھی جو چارٹرڈ ہوائی جہاز سے یہاں پہنچے تھے، کے مطابق جب وہ نوجوانوں سے انفرادی سطح پر تفصیلی گفتگو کرتے تو ان کے اصل خواب سامنے آتے۔ کوئی لڑکی خلاباز (ایسٹروناٹ) بننا چاہتی تھی، کوئی گلوکارہ بننے کی خواہش رکھتی تھی اور کوئی کسی دوسرے منفرد شعبے میں جانا چاہتا تھا۔ انہوں نے ایک تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مقام پر وزیر اعلیٰ کا ہیلی کاپٹر موجود تھا۔ انہوں نے چند طالبات کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرائی اور پائلٹ سے درخواست کی کہ وہ انہیں کاک پٹ بھی دکھائیں۔ بعد میں جب انہی طالبات سے دوبارہ پوچھا گیا کہ وہ کیا بننا چاہتی ہیں تو سب نے جواب دیا کہ وہ پائلٹ بننا چاہتی ہیں۔راہل گاندھی نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ نوجوانوں کے خواب اکثر مواقع کی کمی کے باعث محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر انہیں نئے تجربات، بہتر رہنمائی اور مختلف شعبوں سے واقفیت کا موقع دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق بڑے خواب دیکھ سکتے ہیں۔
 کانگریس رہنما نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر خطاب کے دوران آکانکشا نامی طالبہ کا ذکر کیا، جو ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آکانکشا کے والد نے قرض لے کر اس کی تعلیم کا انتظام کیا لیکن نیٹ پرچہ لیک ہونے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور بعد میں اس نے اپنی جان دے دی۔ راہل گاندھی کے مطابق آکانکشا نے اپنے آخری خط میں لکھا تھا، ’’سوری ممی پاپا، میں نے آپ لوگوں کا سب کچھ برباد کر دیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ کسی ایک طالبہ کی نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام کی ناکامی ہے۔ راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ سب کو مل کر ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے جہاں کوئی بھی طالب علم مایوسی یا ناامیدی کے باعث اپنی زندگی کے بارے میں منفی فیصلہ کرنے پر مجبور نہ ہو۔
 کوٹا میں طلبہ کی مہاریلی سے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ وہ یہاں نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے مسائل پر بات کرنے آئے ہیں، نہ کہ سیاست کے لئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK