۱۷؍ جون کو راجستھان میں منعقدہ ریلی سےمتعلق کانگریس لیڈر نے کہا کہ سرکار سننے کو تیار نہ ہو تو آواز اونچی کرنی پڑتی ہے۔
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ملک بھر کے نوجوانوں سے طلبہ کے حق کی ’ہنکار‘ بلند کرنے کیلئے ۱۷؍ جون کو راجستھان کے کوٹا میں منعقدہ مہاریلی میں پہنچنے کا نعرہ دیا ہے۔راہل گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ پیپر لیک، ہر منسوخ امتحان اور ہر ادھوری بھرتی صرف نظام کی ناکامی نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے خوابوں پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ’’ میں جانتا ہوں کہ آپ یعنی ملک کے نوجوان تھک چکے ہیں اور آپ میں کافی غصہ بھی ہے، لیکن یاد رکھئے! جب حکومت سننے کو تیار نہ ہو تو آواز اونچی کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد سے وہ نوجوانوں کو۱۷؍ جون کو کوٹا میں ہونے والی’طلبہ کی گونج‘ مہاریلی کیلئے مدعو کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا سے شروع ہونے والی یہ آواز ملک کے ہر کونے تک پہنچے گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے بڑی تعداد میں مہاریلی میں شامل ہو کر اپنے حقوق اور مستقبل کی لڑائی کو مضبوط کرنے کا نعرہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئیے! ہم سب مل کر ایک ایسی ’ہنکار‘ بنیں جسے اَن سنا کرنا ممکن نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز کوٹا سے ہورہا ہے لیکن اس کی دستک ملک کے کونے کونے تک سنائی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ آپ کے مستقبل کی لڑائی ہے اور میں آپ کے ساتھ ہوں۔‘‘
خیال رہے کہ نیٹ پیپر لیک کے بعد سے ملک کے امتحانی طریقہ کار پر راہل گاندھی مسلسل آواز بلند کررہے ہیں۔ اس کےساتھ ہی کانگریس کی یوتھ یونٹ اور کانگریس کی طلبہ تنظیم ’این ایس یو آئی‘ کی جانب سے بھی روزانہ ہی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج ہورہے ہیں۔ دو دن قبل مدھیہ پردیش میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی مخالفت کے دوران این ایس یو آئی کے کئی کارکنان حراست میں لئے گئے تھے۔