ممبئی سینٹرل بس ڈپو کے سامنے سٹی سینٹرمال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نجکاری ختم کرنے اور شہریوں کوسستی، محفوظ اور بہتر خدمات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔
سٹی سینٹرمال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کانگریس کے لیڈران ’مشن بیسٹ بچاؤ‘ منشور کا اجراء کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ممبئی کانگریس نے اتوار کو ’مشن بیسٹ بچاؤ‘ عنوان سے اپنا بیسٹ کا منشور بامبے سینٹرل بیسٹ ڈپو کے سامنے منعقدہ سٹی سینٹرمال میں منعقدہ پریس کانفرنس میں جاری کیا ۔ اس منشور میں بیسٹ کو نجکاری سے بچانے اور پرائیویٹائزیشن ختم کرنے، شہریوں کو سستی ، محفوظ اور بہتر ین خدمات فراہم کرنے ، بیسٹ بسوں کی تعداد ۶؍ ہزار سے زیادہ کرنے اور بیسٹ میں مستقل ملازمین کی بھرتی شامل ہے۔ اس موقع پر ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے الزام عائد کیا کہ تھانے اور ملبارہل کے’بنگلوں‘ سے بیسٹ کو ختم کر کے پرائیویٹ کمپنی کی بسوں کوبڑھاوا دینے کا کام کیا جا رہا ہے جو ممبئی کے شہریوں کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوںنے بیسٹ میں بڑے پیمانے پر بد عنوانی کا بھی الزام لگایا۔
’مشن بیسٹ بچاؤ‘ میں ۹؍ اہم نکات پیش کئے گئے ہیں اور منشور میں وعدہ اور اس پر کس طرح عمل درآمد ہوگا، دونوں بتایا گیا ہے۔ اس منشور کے اجرا کے موقع پر رکن اسمبلی امین پٹیل، پارٹی ترجمان سچن ساونت اور دیگر لیڈران موجود تھے۔
ممبئی میں سب سے بڑا مسئلہ فضائی آلودگی اور لوکل ٹرین کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والی بیسٹ خدمات کا ہے۔ممبئی کے شہریوں کو شہر کی ترقی چاہئے لیکن متعدد پارٹیاں ان کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹا کر مذہب، زبان اور پرانت کی سیاست کر رہے ہیں لیکن کانگریس ان میں نہ الجھتے ہوئے ممبئی کے شہریوں کے مسائل کو دورکرنے پر یقین رکھتی ہے اسی لئے فضائی آلودگی، بیسٹ کو ختم کرنے کی ساز ش، صحت ، اور ایجوکیشن کے مسائل کوحل کرنے سےمتعلق اپنا انتخابی منشور پیش کر رہی ہے۔ آج ’مشن بیسٹ بچاؤ‘ منشور جاری کیاجارہا ہے۔ ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ’’بی ایم سی نے اپنی ایجنسیوں کی نجکاری کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اسی کے تحت ممبئی کے شہریوں کی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی بیسٹ بسوںکو بھی پرائیوٹائز کیا جارہا ہے اور ہم دستاویزات کی مدد سے اسے ثابت کر یں گے۔ بیسٹ کی ۶؍ہزار بسیں شروع ہونا چاہئےکیونکہ جب تک عوامی ٹرانسپورٹ بہتر نہیں ہوگا تب تک ممبئی میں ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘
اجازت کے بغیر سٹی فلو کی ۴؍ ہزار ۶۰۰؍ پرائیویٹ بسیں
ورشا گائیکواڑ نے یہ بھی کہا کہ ’’ ممبئی اور ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن ( ایم ایم آر ) میں سٹی فلو نام کی ۴؍ ہزار۶۰۰؍بسیں چل رہی ہیں۔ یہ بسیں ممبئی شہرو مضافات، تھانے ،نوی ممبئی ، کلیان اور ایم ایم آر میں چل رہی ہیں لیکن اس بس کو آر ٹی او ، محکمہ ٹریفک اورمحکمہ ماحولیات کی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے اور متعلقہ محکموں کی اجازت لئے بغیر ہی یہ نجی بسیں دھڑلےچل رہی ہیں۔اس سٹی فلو کے پیچھے کون ہے؟تھانے اور ملبار ہل کے بنگلہ پر جنہیں اس کا ہفتہ جاتا ہے، وہ اس پرائیویٹ بس خدمات میں شراکت دار ہے۔ ان پرائیویٹ بس خدمات کے سبب بیسٹ کی اے سی بس خدمات کو نقصان ہو رہا ہےاور اس کے مسافر سٹی فلو میں جارہے ہیں۔ ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے سے بیسٹ کی بسوں کو اجازت نہیں لیکن سٹی فلو کو اجازت دی گئی ہے۔
ورشا گائیکواڑ نے پریس کانفرنس میں ۲؍ خطوط کا حوالہ دیا جو۱۳؍ مئی ۲۰۲۴ء اور۱۳؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو لکھے گئے تھے جس میں سٹی فلو بسوں کے تعلق سے شکایت کی گئی تھی۔ انہوںنے بتایا کہ یہ ۲؍ خطوط لکھنے کے بعد ایوان اسمبلی میں بھی اس پر سوال قائم کئے گئے تھے اور محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس پر جانچ کرنے او راپنی رپورٹ پیش کرنے کا یقین دلایا تھا لیکن آج تک اس کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ۔اس کیلئے ذمہ دار کون ہے؟ محکمہ ٹرانسپورٹ کے وزیر یا تھانے سے تعلق رکھنے والے نائب وزیراعلیٰ ؟ ان بسوں سے عام ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل پڑا ہے ، اس طرح پارکنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں شکایت کرنے پر آر ٹی او نے انہیں محض ۱۰؍ ہزار کے حساب سے ۲؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ اس کے بعد سٹی فلو بس کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو لیٹر بھیج کر جرمانہ کی رقم معاف کرنے کی درخواست کی گئی۔اس کے باوجود کوئی جرمانہ وصول نہیں کیا گیا۔‘‘
ورشاگائیکواڑ نے ان کاغذات کو میڈیا کے نمائندوں میں بھی تقسیم کیا ۔ انہوں نے مزید بتایاکہ ’’ان نجی سٹی فلو جس کا دفتر تھانے میں ہیں ،کی وجہ سے بیسٹ کی بسیں بند کی جارہی ہیں۔
’مشن بیسٹ بچاؤ ‘منشورکے ۹؍ نکاتی پروگرام
(۱)بیسٹ عوامی خدمت ہے، منافع کمانے والی کمپنی نہیں: بیسٹ خدمات ایمرجنسی خدمت کے طور پر کام کرے گی۔اس سے براہ راست بی ایم سی کے سالانہ بجٹ کے ذریعے فنڈ فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسے پارکنگ اور میونسپل چارجز میں حصہ دیاجائے گا۔اگر بیسٹ کے کرایے میں اضافہ کرنا ہوگا تو اس سے قبل عوامی سماعت ہوگی اور کمیٹی کے سفارشات کے مطابق عمل کیاجائے گا۔
(۲)پرائیویٹائزیشن ختم کرکے بیسٹ کو مکمل طور پر عوامی بنائیں گے:اس کیلئے یہ بیسٹ کی نجکاری کو روکنا۔ فوری طور پر سبھی نجکاری کے معاہدوں کو روک دیا جائے گا، ۳؍برسوں میں آپریشنز، دیکھ ریکھ اور عملے کو مکمل طور پر بہترین کنٹرول میں لایا جائے گا۔کیگ سے منظور شدہ آزاد آڈٹ کروائیںگے، مصنوعی ذہانت سے جانچ کی جائے گی کہ آمدنی کیوں گر رہی ہے؟خرچ کیوں بڑھ رہا ہے؟یہ عزم کیا گیا۔
(۳)۲۰۱۹ء کے معاہدے کے مطابق ۳؍ ہزار ۳۳۷؍ بسوں کو دوبارہ شروع کریں گے۔اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ڈپو کی زمین صرف نقل و حمل کیلئے استعمال ہو۔ڈرائیور ، کنڈکٹر اور میکانک کی مستقل اسامیوں کو پُر کیا جائے گا۔
(۴)بیسٹ کی بسوں کی تعداد ۶؍ ہزار سے زیادہ کی جائے گی۔
(۵)طویل فاصلے اور کراس سٹی روٹس دوبارہ شروع کریں گے۔ (۶)بیسٹ ڈپو اراضی کی فروخت اور نجکاری کو روکیں گے۔
(۷)مسافروں کے حقوق اور حفاظتی چارٹر:تمام مسافروں کیلئے محفوظ ،شفاف، اور جوابدہ بس سروس
(۸)بیسٹ ملازمین کیلئے ورکر ویلفیئر۔
(۹)مکمل شفافیت اور عوامی احتساب