Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا میں ۱۰؍ سال بعد کانگریس کی اقتدار میں واپسی

Updated: May 05, 2026, 9:43 AM IST | Agency | Thiruvananthapuram

کیرالا: ۱۴۰؍ سیٹوں میں کانگریس کو تنہا۶۳؍ سیٹیں ملیں، یو ڈی ایف میں شامل انڈین یونین مسلم لیگ کی شاندار کارکردگی،۲۶؍سیٹوں پر الیکشن لڑی اور ۲۲؍ میں کامیابی حاصل کی ، بی جے پی کو تین سیٹیں ملیں ۔

Congress Workers Celebrating Victory In Kerala.Photo:INN
کیرالا میں جیت کا جشن مناتے ہوئے کانگریس کارکنان- تصویر:آئی این این
 کیرالا اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں یونائیٹڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے شاندار واپسی کی ہے۔۱۴۰؍ رکنی اسمبلی میں یو ڈی ایف کو ۹۲؍ نشستوں پر کامیابی کے ساتھ واضح برتری مل چکی ہے جبکہ سی پی ایم کی قیادت میں لیفٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) محض۳۳؍ سیٹوں پر سمٹ کر رہ گیا ہے۔ یو ڈی ایف اتحاد میں انڈین یونین مسلم لیگ کی کارکردگی شاندار رہی۔ اس نے محض۲۶؍ سیٹوں پر مقابلہ کیا اور ۲۲؍ سیٹوں پرکامیابی حاصل کی جبکہ یو ڈی ایف کی دوسری اتحادی’کیرالا کانگریس‘ کو ۷؍سیٹیں ملیں۔ اس طرح اتحاد کو مجموعی طور پر ۹۲؍ نشستوں پر کامیابی ملی ہے جو کہ حکومت سازی کیلئے درکار ۷۱؍ سیٹوں کے مقابلے کافی زیادہ ہے۔
اس طرح سے کیرالا میں یو ڈی ایف اتحاد نے بائیں بازو کو، جو۱۰؍ سال سے اقتدار میں تھی،  بے دخل کر دیا ہے۔ بی جے پی کو اس مرتبہ تین سیٹیں ملی ہیں جبکہ اس کے ووٹ شیئر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو ۱۱ء۳۰؍ فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ اِس مرتبہ ۱۱ء۴۲؍ فیصد ملتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ کانگریس کی کامیابی بھی برسوں بعد اتنی شاندار رہی ہے۔ ۲۰۲۱ء کے انتخابات میں اسے ۲۵؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ محض ۲۲؍ سیٹیں ملی تھیںجبکہ ۲۰۱۶ء میں ۲۳ء۸؍ فیصد ووٹوں کی بدولت ۲۱؍ سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس سے قبل ۲۰۱۱ء میں جب کانگریس وہاں اقتدار میں آئی تھی،اُس وقت اسے ۲۶ء۷۳؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ ۳۸؍ سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ اس مرتبہ ابھی جبکہ گنتی جاری ہے،۲۸ء۷۹؍ فیصد ووٹ حاصل کرنے کےساتھ کانگریس تنہا۶۳؍سیٹوں پر جیت درج کرا چکی ہے۔ کانگریس نے۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات اور حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
 
 
ان نتائج کے ساتھ ہی ملک میں بائیں بازو کا آخری گڑھ بھی ختم ہوگیا۔ایل ڈی ایف کی شکست کے ساتھ۱۹۶۰ء کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب بائیں بازو کی جماعتیں کسی بھی ریاست میں اقتدار میں نہیں ہوں گی۔ بی جےپی نے اس مرتبہ ریاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی پوری کوشش کی تھی اور کامیاب بھی رہی۔ ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی انتخابات میں اسے چونکہ ایک سیٹ پر کامیابی مل گئی تھی اور اس کے بعد ایک کارپوریشن میں بھی وہ اپنا میئر بنانے میں کامیاب رہی تھی، اس نے اس کے حوصلوں کو کافی بلند کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ ریاست کی کئی سیٹوں پر کامیابی کی امید کررہی تھی، اسلئے ریاستی پولیس اہلکاروں کے ساتھ مرکزی فورسز کی۲۵؍ کمپنیاں بھی تعینات کر رکھی تھیں۔اس کا اسے خاطر خواہ فائدہ بھی ملا۔
 
 
انتخابی نتائج ظاہر ہونے کے بعدکانگریس کی جنرل سیکریٹری اور وائناڈ سے رکن پارلیمان پرینکا گاندھی نےکانگریس اتحاد کی کامیابی پر کیرالا کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نےکہا کہ ان کے اعتماد اور بے پناہ حمایت سے پرجوش ہو کر یو ڈی ایف ریاست میں بہتر مستقبل کی تعمیر کیلئے کام کرے گا۔انہوں نے پیر کو ‘ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کیرالا کے عوام کا بھروسہ ہی یو ڈی ایف کیلئے رہنما قوت بنے گا اور آنے والے پانچ برسوں میں دیانتداری اور عاجزی کے ساتھ کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے وائناڈ کے عوام کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہاں یو ڈی ایف کو۷؍ میں سے۷؍ سیٹوں پر ملنےوالی جیت عوام کے مضبوط اعتماد کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی کیلئے تمام نمائندے مل جل کر کام کریں گے اور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔انہوں نے یو ڈی ایف کے کارکنوں اور لیڈروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششوں سے متحد اور ترقی پسند کیرالا کا پیغام ہر گھر تک پہنچا ہے اور آنے والے برسوں میں عوام کی خدمت کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔کیرالا کی اس کامیابی نے کانگریس کو کافی حوصلہ فراہم کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سے ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں اسے فائدہ پہنچے گاکیونکہ اس کے ہاتھ میں ایک اور ریاست آگئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK