یوگی آدتیہ ناتھ کسانوں کیلئے دھمکی آمیز زبان استعمال نہ کریں: کانگریس

Updated: October 19, 2021, 12:11 PM IST | Agency | Lucknow

پارٹی کے ترجمان نسیم الدین صدیقی کا بی جے پی کوکسانوں کو دھمکانے سے باز آنے کا انتباہ کہا ’’عوام ووٹ کے ذریعے حساب لیں گے‘‘

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 اترپردیش کانگریس نے یوگی حکومت پر کسانوں کی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کسانوں کے تئیں دھمکی آمیز زبان کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے۔پارٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئر مین  اور سابق وزیر نسیم الدین صدیقی نے پیر کو کہا کہ لکھیم پور میں مرکزی  وزیر مملکت برائے داخلہ  کے اکساوے پر ان کے بیٹے کے ذریعہ اپنی گاڑی سے چار کسانوں  اور ایک صحافی کو قتل کر دیئے  جانے کے معاملے میں انصاف کا مطالبہ کرنے والے کسانوں کو حکومت  دھمکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’حکومت کو اس  حرکت سے باز آنا چاہئے۔‘‘ نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ’’ کسانوں کی طرف سے مرکزی وزیر اجے مشرا کی برخواستگی  اور ان کی گرفتار کا مطالبہ بالکل جائز ہے لیکن جس طرح سے جوائنٹ کسان مورچہ کے کسانوں نے آج ریل روکو تحریک چلائی ہے اس سیاق میں وزیر اعلیٰ  اور بی جے پی کے لیڈروں کے دھمکی آمیز بیانات شرمنا ک ہیں اور قابل مذمت ہیں۔‘‘  انہوں نے کہا کہ’’ نا انصافی کے ساتھ کسان  تحریک کے ساتھ برتی جانے والی جارحیت  تاریخ میں درج ہوگی۔‘‘ نسیم الدین صدیقی کے مطابق ’’بی جے پی کے اقتدار میں انگریز وں کی ظلم وزیادتی بھی کم معلوم ہونے لگی ہے۔‘‘صدیقی نے کہا کہ’’ جرائم پیشہ افراد کو لگاتار پناہ دینے والی بی جے پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں نظم ونسق کا زبردست غلط استعمال کیا گیاہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ ہر سوال کے ساتھ حکومت کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبایا گیاہے۔ پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں پر ظلم کر کے انہیں توڑنے کی سازش کی گئی  ہے۔ اورجب کسان نہیں ٹوٹے تو ان پر مجرمانہ دفعات میں فرضی مقدمے درج کر کے انہیں دھمکانے کا کھیل کیا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ سب کچھ جمہوریت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔‘‘انہوں نے کہا کہ قتل،لوٹ، عصمت دری، اجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کی واردت سے لرزتے اترپردیش میں یہ سب حکومت کے تحفظ میں ہوتا ہوا سب دیکھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’عوام مظالم کا حساب ووٹ کی چوٹ سے کریں گے۔‘‘  واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے نے کسانوں کو کچل دیا تھا جس میں ۸؍ لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس  کے بعد ان کےبیٹے کو گرفتار کرنے کے بجائے کسانوں ہی کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش ہو رہی تھی۔  اہم بات یہ ہے کہ  اس دوران بی جے پی کی نہ تو مرکزی اور نہ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ ان کسانوں سے ملنے گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK