Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین ریزرویشن پر کانگریس نے بی جے پی کو گھیرا ، فوری نفاذ کا مطالبہ ، دہلی سے دہرادون تک احتجاج

Updated: April 28, 2026, 11:50 PM IST | New Delhi

جےرام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت کو لوک سبھا کی موجودہ سیٹوں کے ساتھ ہی خواتین ریزرویشن نافذ کرنی چاہئے، دہلی اور اتراکھنڈ میں اسمبلی کے باہر کانگریس کی خواتین ونگ کا زبردست مظاہرہ

Congress holds massive protest in Delhi under the leadership of Alka Lamba
دہلی میں الکا لامبا کی قیادت میں کانگریس کا زبردست مظاہرہ

خواتین ریزرویشن کا بل پیش کرکے بی جے پی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی تھی لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں پھنستی جارہی ہے۔ کانگریس نےاس معاملے پر اسے طرح سے گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
 اسی کے تحت منگل کو کانگریس جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بی جے پی کو گھیرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مودی حکومت کو لوک سبھا کی موجودہ سیٹوں کے ساتھ ہی خواتین ریزرویشن نافذ کرنے پر گفت و شنید کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب وزیر اعظم اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے سیاسی ایجنڈے کیلئے ملک کی خواتین کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ ’’اب انتخابی مہم ختم ہو چکی ہے۔ اپوزیشن کی یکجہتی کے سبب وزیر اعظم کی یہ (حد بندی والی) سازش ناکام ہو گئی ہے۔ اب وزیر اعظم کو وہ کرنا چاہئے جس کا مطالبہ اپوزیشن مارچ۲۰۲۶ء سے مستقل کر رہا ہے۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو فوری طورپرایک کُل جماعتی میٹنگ طلب کرنی چاہئے۔ اس میٹنگ میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ۲۰۲۳ء‘ کو نافذ کرنے پر بات ہو۔
 کانگریس لیڈر نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو۲۰۲۹ء سے موجودہ سیٹوں پر ہی اثرانداز بنایا جانا چاہئے۔  انہوں نے یاد دلایا کہ اس ایکٹ کو ۱۶؍ اپریل۲۰۲۶ء کی دیر رات گھبراہٹ میں نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ اب موجودہ تعداد کے ساتھ خواتین کو ریزرویشن دینا ممکن بھی ہے اور ضروری بھی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین ریزرویشن کبھی اہم ایشو تھا ہی نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کا اصل مقصد حد بندی کرنا تھا۔ یہ دراصل وزیر اعظم کے سیاسی وجود کو بچانے کیلئے حد بندی کا کھیل تیار کیا گیا تھا۔ خواتین کو انصاف دلانے کیلئے وزیر اعظم کو اب اپنی حکمت عملی بدلنی چاہئے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ مانسون اجلاس یا اس سے قبل بل لا کر موجودہ سیٹوں پر ہی کوٹہ نافذ ہو۔ اپوزیشن شروع ہی سے خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی تھوپنے کی مخالفت کر رہا ہے۔
 اسی دوران بی جےپی بھی اس موضوع پر اپنی سی کوشش کرتی نظر آئی۔ ایک جانب جہاں وزیراعظم نے  اترپردیش کے اپنے دورے میں ’ناری شکتی وندن‘کو بھنانے کی کوشش کی وہیں مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کی بی جےپی حکومت نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا۔ کانگریس نے اس کی مخالفت اور خواتین کو فوری ریزرویشن دینے کے اپنے مطالبے کے تحت مذکورہ تمام ریاستوں میں اسمبلی کے باہر احتجاج بھی کیا۔  اتراکھنڈ میں مظاہرین سے ’نمٹنے‘ کیلئے پولیس کا بھاری انتظام تھا۔ 
 اسی طرح دہلی میں خاتون کانگریس کی قومی صدر الکا لامباکی قیادت میں خاتون کانگریس کی لیڈران و کارکنان نے دہلی اسمبلی کا گھیراؤ کر کے مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ سیکڑوں کی تعداد میں جمع خواتین نے ’مہیلا ریزرویشن نافذ کرو، آج کرو، ابھی کرو‘ اور ’او بی سی خواتین کو شامل کرو، شامل کرو‘ جیسے نعرے بلند کئے اور ہاتھوں میں تختیاں و بینر لے کر حکومت کے خلاف اپنا زوردار احتجاج بلند کیا۔
 خاتون کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے اس موقع پر سوال کیا کہ ہم نے سبھی پارٹیوں کے تعاون سے۲۰۲۳ء میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کو پاس کیا تھا، لیکن اسے نافذ کرنے میں آخر اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ انھوں نے کہا کہ جب حکومت نے قانون پاس کر دیا ہے تو پھر اسے نافذ کرنے سے پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے۔ الکا لامبا نے مطالبہ کیا کہ لوک سبھا کی تمام سیٹوں پر خواتین ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور خواتین کے نام پر صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK