مارکو روبیو کی ہدایت’’امریکی فوج کے حکم پر عمل درآمد کریں‘‘ کا حوالہ دیا، کہا: وزیراعظم’فرمانبردارخادم‘ کی طرح سنتے ہیں، وہ ملک کے وقار کی حفاظت نہیں کرسکتے۔
راہل گاندھی۔ تصویر:آئی این این
امریکی بحریہ کے حملے ۳؍ ہندوستانی جہاز رانوں کی موت اوراس پر احتجاج درج کرانے پر امریکہ کے تحکمانہ انداز کیلئے وزیراعظم نریندرمودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اتوار کو راہل گاندھی نےالزام لگایا کہ وہ ’’اطاعت شعارخادم‘‘ کی طرح امریکہ کی سنتے ہیں،ملک کے وقار کا تحفظ نہیں کرسکتے۔ سنیچر کو وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ معاملہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھایا اور احتجاج درج کرایا مگر کسی ندامت کے بجائے امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں ’’امریکی بحریہ کے احکامات پر عمل درآمد‘‘ کی ہدایت دی گئی اور متنبہ کیاگیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی ’’برداشت نہیں کی جائےگی۔‘‘
راہل گاندھی نے اسی بیان کو بنیاد بنا کر مودی سرکار پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہندوستان کے ۳؍ ملاحوں کے امریکی حملوں میں قتل کے چند دن بعد بھی نہ کوئی پچھتاوا ہے، نہ معافی۔ اس کے برعکس امریکہ اب بھی احکامات جاری کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے امریکی وزارت خارجہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’’’ان کے الفاظ پڑھیں: `’فوری طور پر امریکی فوج کے احکامات پر عمل کریں۔ کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘کانگریس لیڈر نے نریندر مودی کو ’’کمپرومائزڈ وزیر اعظم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی عزت کا دفاع نہیں کر رہے۔انہوں نے کہاکہ’’کوئی آزاد ملک کبھی ایسی زبان برداشت نہیں کرتا، لیکن ہمارے کمپرومائزڈ وزیر اعظم خاموش ہیں۔ وہ ایک فرمانبردار خادم کی طرح سنتے ہیں اور احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ وہ ملک کی عزت کا دفاع نہیں کریں گے کیونکہ جو ملک کی توہین کرنے والوں نے انہیں اپنے قابو میں کر رکھا ہے۔‘‘ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے ، جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی اور دیگر نے بھی وزیر اعظم کو نشانہ بنایا۔ کھرگے نے کہا کہ مودی نے اس واقعے پر نہ کوئی عوامی بیان دیا اور نہ ہی تعزیتی پیغام جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی عالمی سطح پر ملک کے وقار اور خودمختاری کو کمزور کر رہے ہیں۔