پہلے نیٖٹ پھر سی بی ایس ای پر وزیراعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا، وزیرتعلیم کا استعفیٰ مانگا، طلبہ کی خودکشی کے واقعات پر تشویش کااظہارکیا۔
این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے- تصویر:آئی این این
ملک کے تعلیمی نظام کی بربادی ، پہلے نیٹ کا پرچہ لیک اور پھر سی بی ایس ای کے امتحان کے نتائج میں گڑبڑی کے خلاف کانگریس حرکت میں آگئی ہے۔خود کو زبانی جمع خرچ اور احتجاج تک محدود رکھنے کے بجائےکانگریس اپنی طلبہ تنظیم ’’ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا‘‘(این سی یو آئی ) کے توسط سے طلبہ کی مدد کیلئے آگے آئی ہے۔ پارٹی میں این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار نے بدھ کو پریس کانفرنس کر کے طلبہ کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا اور ان سے دوسروں کی غلطی اور ناکامی پر اپنی قیمتیں جانیں نہ گنوا نے کی اپیل کی۔ کانگریس لیڈر نے طلبہ کو اپنے ساتھ ہونےوالی ناانصافی کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ کسی اور کی ناکامی کیلئے اپنی قیمتی جان مت دیں۔ اگر لڑنا ہے تو اپنے حقوق کیلئے لڑیں۔‘‘
وزیراعظم کی خاموشی پر سوال، سڑکوں پر احتجاج
کنہیاکمار نے پارٹی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کے آغاز میں ہی وزیراعظم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہاکہ ’’نریندر مودی بورڈ امتحانات سے پہلے ’’پریکشا پہ چرچا‘‘ کرتے ہیں اور ریل بناتے ہیں، لیکن پیپر لیک ہونے کے بعد سائلنٹ موڈ میں چلے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’کانگریس، این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک اپنا احتجاج جاری رکھےگی۔‘‘ انہوں نے یونین پبلک سروس کمیشن ( یو پی ایس سی) کےپریلیمنری امتحان سے متعلق شکایات کا بھی ذکر کیا، جہاں طلبہ نے نصاب کے باہر سے سوال آنے اور ہر سوال کیلئے ناکافی وقت ملنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’یو پی ایس سی کا نصاب لیک نہیں ہوتا، لیکن نیٹ کا پرچہ لیک ہو جاتا ہے۔ یہی اس حکومت کے بارے میں سب کچھ بتاتا ہے۔‘‘
۸۰؍ سے زیادہ پرچے لیک ،وزیرتعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ
کنہیا کمار نے نیٹ اور سی بی ایس ای معاملے میں وزیراعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ آخر ایک’’نااہل‘‘ وزیر تعلیم کو عہدے پر برقرار رکھنے کی کیا مجبوری ہے۔ انہوں نے طنز کیاکہ’’وہ تو آپ کی اپنی کابینہ کے وزیر ہیں، ٹرمپ کے نہیں، جن کے سامنے آپ کانپتے ہیں۔‘‘ کنہیا کمار نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت میں مختلف امتحانوں کے۸۰؍ سے زیادہ بار پرچے لیک ہو چکے ہیں۔
نیٹ کے بعد سی بی ایس ای کا تنازع
نیٹ کے بعد بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم ) نظام کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کنہیا کمار نے کہاکہ ’’مودی نوجوانوں کے خواب توڑ کر انہیں ترقی یافتہ ہندوستان کا تماشا دکھا رہے ہیں۔ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے وہ حکومت کیلئے شاید مذاق ہو، لیکن بچوں کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔‘‘ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’’صورتحال یہ ہے کہ جب ایک۱۷؍ سالہ طالب علم نے سی بی ایس ای سے متعلق مسائل پر آواز اٹھائی تو کچھ ’’بے ضمیر صحافیوں‘‘نے اسے غدار قرار دے دیا۔ واضح رہے کہ ویدانت نامی مذکورہ طالب علم کا پاکستانی تک قرار دیاگیا۔