کریسل کا انتباہ، نشاندہی کی کہ تھوک مہنگائی پر اس کا اثر پہلے ہی نظر آنےلگا ہے، ۴؍ سال میں پہلی بار لاگت قیمت سے زیادہ ہوگئی۔
لاگت میں اضافے کا اثر جلد ہی رٹیل مارکیٹ پر بھی نظر آئے گا۔ ۔تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا بحران کی وجہ سے گھریلو مینوفیکچرنگ کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور پونے ۴؍ سال میں پہلی بار اپریل میں مصنوعات کی قیمت کے مقابلے لاگت زیادہ ہو گئی ہے۔مارکیٹ اسٹڈی اور ریٹنگ ایجنسی کریسل کی بدھ کو جاری کردہ’’کوئیکونومکس‘‘رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی لاگت کی قیمت کا اثر تھوک مہنگائی پر دکھ رہا ہے، لیکن آنے والے وقت میں خوردہ مہنگائی بھی بڑھتی نظر آئے گی۔
اس نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے دنیا کو خام تیل کی سپلائی میں سب سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے لاگت کی دوسری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔ اس سے تانبے اور ایلومینیم کی اونچی قیمتوں سے پریشان مینوفیکچررز کے سامنے نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اپریل میں لاگت کی افراط زر اوسطاً۶ء۲ء فیصد رہی جبکہ مصنوعات کی اوسط قیمتیں۰ء۷؍ فیصد بڑھیں۔
ایندھن اور منرل آئل کے علاوہ اسٹیل، بنیادی کیمیکلز، کھادوں، پلاسٹک، مصنوعی ربڑ، انسان ساختہ فائبر، نان فیرس دھاتوں اور غیر دھاتی معدنیات کی قیمتوں میں تیز اضافہ درج کیا گیا۔ اس نے کہا کہ ابھی بھلے ہی صرف تھوک افراط زر بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے، جلد ہی لاگت بڑھنے کا اثر خوردہ مہنگائی پر بھی دکھے گا۔ دوسری طرف، دواؤں، فرنیچر، کپڑوں اور گاڑیوں کے ساتھ ڈیری جیسی غذائی مصنوعات کی افراط زر سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں۔