کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال کا اعلان، آج پارٹی کارکنوں سے ریاستوں کے الیکشن کمیشن دفاتر تک مارچ کی اپیل۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 12:36 PM IST | Agency | New Delhi
کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینو گوپال کا اعلان، آج پارٹی کارکنوں سے ریاستوں کے الیکشن کمیشن دفاتر تک مارچ کی اپیل۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی فوری گرفتاری کے مطالبے کے حق میں ملک بھر میں تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔کانگریس جنرل سیکریٹری(تنظیم)کے سی وینوگوپال نےجمعرات کو’ایکس‘ پر کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی پہلے دن سے ہی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں ہو رہے انتخابات میں بڑے پیمانے پر ’ووٹ چوری ‘کی کوشش کو اجاگر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک دن پہلے جو انکشافات ہوئے ہیں، ان سےجمہوریت کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کا مبینہ وطن دشمن اقدام واضح طور پر سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اس معاملے پر سڑکوں پر اترے گی اور اس نے اپنی تمام ریاستی اکائیوں کو۲۵؍ ستمبر کو اپنی ریاست کے الیکشن کمیشن کے دفاتر تک بڑے پیمانے پر احتجاجی مارچ منعقد کرنے کو کہا ہے۔ ان مظاہروں میں گیانیش کمار کی فوری گرفتاری، انہیں عہدے سے ہٹانے نیز ان کے دورِ اقتدار میں کئے گئے تمام فیصلوں اور ووٹر فہرست میں کی گئی تبدیلیوں کی جامع اور آزادانہ نظر ثانی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ تحریک کے دوسرے مرحلے میں تمام ضلعی کانگریس کمیٹیاں۲۸؍ ستمبر کو اپنے اضلاع میں کلکٹریٹ تک اسی طرح کے احتجاجی مارچ نکالیں گی۔کے سی وینوگوپال نے مطالبہ کیا ہے کہ گیانیش کمار کو ہٹانے کے ساتھ ہی انہیں جیل بھیجا جانا چاہئے اور جو فیصلے انہوں نے اب تک کئے ہیں ان کو واپس لیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک مطالبہ پورا نہیں ہوتا، کانگریس کا احتجاج جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے شام کو پانچ ملین ڈالر مالیت کے مسروقہ نوادرات واپس کر دئے
یوتھ کانگریس نے آن لائن شہری عرضداشت مہم شروع کی
اس دوران انڈین یوتھ کانگریس نےجمعرات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے کےحق میں ملک گیر آن لائن شہری عرضداشت (سٹیزن پٹیشن) مہم شروع کی۔ تنظیم نے انتخابی شفافیت، جوابدہی اور جمہوری اداروں کی حفاظت کے لیے نوجوانوں اور شہریوں سے اس مہم سے جڑنے کی اپیل کی ۔مہم کے تحت یوتھ کانگریس نے ۵؍ اہم مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹانا، ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ چلانا، ووٹر فہرست سمیت پوری `ووٹنگ چین اور انتخابی عمل کی جامع تحقیقات نیز بی جے پی سے تعلقات کی تحقیقات شامل ہیں۔ تنظیم نے تمام انتخابی ریکارڈز اور اندرونی اعتراضات کو عام کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔یوتھ کانگریس نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر اٹھ رہے سوالات کے درمیان شفافیت ضروری ہے۔یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب نے کہا کہ اس مہم کو کیمپس، کالجوں اور کمیونٹیوں تک عوامی تحریک کے طور پر لے جایا جائے گا۔
گوا کے ووٹروں کے معاملے پر جے رام رمیش کا سخت رد عمل
ابھی ’انڈین ایکسپریس‘ کی۲۳؍ ستمبر کو شائع الیکشن کمیشن سے متعلق رپورٹ پر ہنگامہ جاری ہی تھا کہ اس کے ایک دن بعد مزید ایک سنسنی خیز رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوا کے چیف الیکٹورل افسر نے الیکشن کمیشن کو۹۷؍ ووٹروں کے لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق ۷؍ دنوںمیں۸؍ بار ای میل بھیجے، جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی اہل ووٹرز حق رائے دہی کا استعمال نہیں کر سکے۔ اس معاملہ میں کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئےتینوں الیکشن کمشنروں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی، یہ سامنے آنا چاہئے: اشوک لواسا
سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے لکھا’’ایس آئی آر ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کے حوالہ کر دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا کے ۹۷؍ووٹرس اور دہلی کے۵۴؍فیصد ووٹرز اور تمام ریاستوں میں تقریباً۱۲؍ کروڑ ووٹرز کے نام حذف کر دیے گئے ہیں یا ان پر نشان لگا دیا گیا ہے۔‘‘ رمیش نے ’فارم۶‘ سے جڑے معاملے پر کہاکہ یہ جین زی کو ووٹنگ کے حق سے دور رکھنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہرنیا ثبوت اس بات کی تصدیق کررہا ہے جوراہل گاندھی ووٹ چوری کے تعلق سے تقریباً۲؍ سال سے کہتے آ رہے ہیں۔
شیوکمار کا گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے جمعرات کوچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا اور ایس آئی آر کی موجودہ کارروائی منسوخ کرکے اسے نئے سرے سے کرانے کا مطالبہ کیا۔یہ مطالبہ تین رکنی الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کے معاملے کے درمیان سامنے آیا ہے۔ شیوکمار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات نے شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔