• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تینوں الیکشن کمشنروں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی، یہ سامنے آنا چاہئے: اشوک لواسا

Updated: September 25, 2026, 12:02 PM IST | Agency | New Delhi

سابق الیکشن کمشنر نے فارم ۶؍ میںترمیم پر بھی سوال اٹھائےاور کہا کہ اگر تینوں کمشنراس پر متفق بھی ہوں تب بھی یہ سوال باقی رہتا ہےکہ اس کیلئے قانونی منظوری حاصل کی گئی تھی یا نہیں؟

According to former Election Commissioner Ashok Lavasa, the information emerging from the Election Commission warrants clarification. Photo: INN
سابق ا لیکشن کمشنر اشوک لواسا کے مطابق الیکشن کمیشن سے جو باتیں سامنے آرہی ہیںوہ وضاحت کی متقاضی ہیں۔ تصویر: آئی این این

سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا نے ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی مہم (ایس آئی آر) کے دوران الیکشن کمیشن کےذریعے اپنا ئے گئے کچھ طریقہ کار کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن واضح کرے کہ کیا فارم۶؍اور ای آر او نیٹ سسٹم میں کی گئی تبدیلیوں کے لیے درست طریقہ کار پر عمل کیا گیا تھا؟ انہو ںنے یہ بھی کہاکہ تینوںالیکشن کمشنروں کےدرمیان جو بات چیت ہوئی ہے اس کی حقیقت کمیشن کو سامنے لاناچاہئے۔اس کے علاوہ ا نہوں نے فارم ۶؍ میں تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے تبصرے انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ پر تنازع کے درمیان آئے ہیں ۔ کمشنروں کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات میں فارم۶؍میں تبدیلیاں شامل تھیں اور ووٹر لسٹ ڈیٹا بیس کو سینٹرلائزکرنا شامل تھا۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے نایاب ترین پرندے کو نیوزی لینڈ کا ’’برڈ آف دی ایئر‘‘ قرار دیا گیا

اشوک لواسا نے سوال اٹھایا کہ اگرفارم ۶؍ میں ترمیم کیلئے تینوںکمشنر متفق تھے تب بھی یہ جائزہ لیاجانا ضروری ہےکہ اس کیلئے درکار قانونی منظوری حاصل کی گئی تھی یا نہیں۔ ا شوک لواسا نے یہ بھی سوال کیا کہ آیا ای آر او نیٹ سسٹم نے انتخابی رجسٹریشن افسران کے قانونی اختیارات کو متاثر کیا جو ووٹر لسٹ میں ناموں کو شامل کرنے اور حذف کرنے کے بارے میں فیصلے کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ گوا میں ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں ایک ای آر او ۹۷؍ ووٹروں کی اہلیت کے تعلق سے مطمئن تھا مگر نئے سسٹم کے سبب ان کا نام شامل کرنے سے قاصر رہا ۔ لواسا نے کہا کہ اگر صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہےکہ ای آراو ووٹروںکے ذریعے فراہم کردہ تفصیلات سے مطمئن ہونے کے باوجود ان کا نام شامل نہیںکرسکتا تویہ بڑا مسئلہ اور باعث تشویش ہے۔ سینٹرلائزڈ ووٹر لسٹ ڈیٹا بیس پر سوال اٹھاتے ہوئےلواسا نے کہا کہ ووٹر لسٹ ڈیٹا بیس کو سنٹرلائز کرنا بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس سے ای آر او کے قانونی  اختیارات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اقتصادی راہداری کی حمایت کردی

انہوں نے کہا کہا کہ الیکشن کمیشن کو ملک کے ووٹر کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ آیا اسے فہرست میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ اس کیلئے ای آر اوکو اختیار دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرکزی ڈیٹا بیس کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، بشرطیکہ قانونی طور پر مجاز ای آر اوکو سسٹم کے متعلقہ حصے تک رسائی حاصل ہو اور وہ اپنے دائرہ اختیار میں ووٹر لسٹ میں تبدیلیاں کر سکے ۔ الیکشن کمشنر سندھو اور جوشی کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے بارے میں، لواسا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اندر رائے کا اختلاف کوئی باضابطہ اختلاف نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بات چیت کی مکمل تفصیلات فراہم کرنی چاہئیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا دونوں کمشنروں نے مخصوص مسئلہ پر مشترکہ رائے رکھی ،کیا ان کی رائے پر غور کیا گیا اورکیا آخرمیںانہوں نےفیصلے سے اختلاف کیا اوریہ بھی کہ کیا کہ ان کے اختلاف کو نظرانداز کردیا گیا۔اشوک لواسا نے الیکشن کمیشن کی شبیہ متاثر ہونے پر افسوس کابھی ا ظہار کیا لیکن کہا کہ جو چیزیں ہورہی ہیں وہ باعث تشویش ہیںاوروضاحت کی متقاضی ہیں۔ احتساب اور توازن ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK