کلیان میں ایک ریپیڈو بائیک ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعہ ایک دوشیزہ کے ساتھ دست درازی کا معاملہ سامنے آنے پر ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے بدھ کی صبح منترالیہ میں ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے جس کا موضوع یہ ہوگا کہ ’ریپیڈو، اولا اور اوبر کو دیا گیا بائیک ٹیکسی چلانے کا عارضی لائسنس کیوں منسوخ نہ کردیا جائے‘۔
کلیان میں ایک ریپیڈو بائیک ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعہ ایک دوشیزہ کے ساتھ دست درازی کا معاملہ سامنے آنے پر ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے بدھ کی صبح منترالیہ میں ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کی ہنگامی میٹنگ طلب کی ہے جس کا موضوع یہ ہوگا کہ ’ریپیڈو، اولا اور اوبر کو دیا گیا بائیک ٹیکسی چلانے کا عارضی لائسنس کیوں منسوخ نہ کردیا جائے‘۔
یاد رہے کہ اسی سال کی ابتداء میں مہاراشٹر حکومت نے ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن کے علاقوں میں بائیک ٹیکسی چلانے کو منظوری دی تھی اور ابتدائی طور پر بالترتیب اولا، اوبر اور ریپیڈو چلانے والی ۳؍ بڑی کمپنیوں میسرز اے این آئی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز اوبر انڈیا سسٹمز پرائیوٹ لمیٹڈ، میسرز روپین ٹرانسپورٹیشن سروسیز پرائیویٹ لمیٹڈ کو عبوری لائسنس جاری کردیا تھا۔ عارضی لائسنس کی بنیاد پر ان کمپنیوں نے بائیک ٹیکسی کی خدمات شروع کردی ہے۔
البتہ موٹر سائیکل کو بطور ٹیکسی چلانے کیلئے حکومت نے کچھ شرائط رکھی ہیں جن میں بنیادی پر طور موٹر سائیکل کا ’الیکٹرک وہیکل‘ ہونا اور اس کا بطور ٹیکسی رجسٹر کروانا لازمی ہے۔ لیکن کافی بڑی تعداد میں لوگ پیٹرول سے چلنے والی نجی گاڑیوں کو بغیر رجسٹر کروائے ٹیکسی کے طور پر چلارہے ہیں۔ ان کے خلاف آر ٹی او اور ٹریفک پولیس کی کارروائی جاری رہتی ہے لیکن سنیچر کو کلیان میں یہ واردات ہوئی کہ ریپیڈو بائیک ٹیکسی چلانے والا ایک ۱۹؍ سالہ نوجوان ایک خاتون مسافر کو اس کی منزل کے بجائے غلط راستے پر لے گیا اور دست درازی کی کوشش کی۔ تاہم وہ لڑکی موٹر سائیکل سے کود گئی اور وہاں موجود افراد سے مدد مانگی۔
وہاں موجود افراد نے اس نوجوان کو پکڑ کر پیٹا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ مہاتما پھلے پولیس نے ملزم کا نام سدیش پردیشی بتایا ہے جس نے ۷؍ ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے پاس سے پولیس نے ایک چاقو برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اس کے خلاف کیس درج کرکے اسے گرفتار کرلیا گیا تھا اور مقامی عدالت نے اسے پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔
اس واقعہ کے پیش نظر ریاستی وزیر پرتاپ سرنائک نے بیان جاری کیا ہے کہ مذکورہ کمپنیوں کو بائیک ٹیکسی چلانے کی عبوری اجازت دی گئی ہے لیکن ان کمپنیوں کے ذریعہ شرائط کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اس لئے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کا لائسنس کیوں منسوخ نہ کردیا جائے۔