حافظ مفتی ابوالکلام قاسمی ۳۱؍سال سےتراویح پڑھا رہے ہیں۔اس سال میراروڈ میں۱۰؍ روزہ تراویح پڑھائی ہے۔ پیشے کی مصروفیت کےباوجود کلام پاک سے رغبت قابل ِ ذکر ہے ۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 12:19 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
حافظ مفتی ابوالکلام قاسمی ۳۱؍سال سےتراویح پڑھا رہے ہیں۔اس سال میراروڈ میں۱۰؍ روزہ تراویح پڑھائی ہے۔ پیشے کی مصروفیت کےباوجود کلام پاک سے رغبت قابل ِ ذکر ہے ۔
حافظ، مفتی ابوالکلام قاسمی حفظ کرنے کے بعد سے مسلسل تراویح پڑھارہے ہیںاوراس خدمت میں ۳۱؍سال گزار چکے ہیں۔ گزشتہ ۸؍ برس سے وہ میراروڈ میں اسٹرلنگ پلازہ میرج ہال میں پڑھارہے ہیں۔ اس دفعہ بھی اسی ہال میں دس روزہ تراویح میں تنہا قرآن کریم مکمل کرچکے ہیں۔ ان کا آبائی وطن مظفر پور (بہار) ہے۔
۴۶؍ سالہ حافظ ابوالکلام نے ۱۵؍ سال کی عمر سے قرآن کریم سنانا شروع کیا۔ انہوں نے میراروڈ دارالعلوم عزیزیہ کی مسجدمیں، حیات العلوم مسجد مالونی گیٹ نمبر ۸؍میں ، سانتا کروز میں اور دیگر علاقوں کی مساجد کے علاوہ اپنے گھر میں بھی تراویح پڑھائی ہے۔ حفظ انہوں نے مشرقی یوپی کی مشہور دینی درسگاہ اعظم گڑھ اور امبیڈکر نگر اضلاع کے بارڈر پر واقع مدرسہ عربیہ قاسم العلوم میں حافظ شمشیر احمدؒ بہرائچی اور حافظ عبدالحق (ناون والے) کے پاس کیا۔ حافظ شمشیر صاحب ۴؍ماہ قبل دارِ فانی سے رخصت ہوگئے ہیں ۔
حفظ کرنے کے تعلق سے حافظ ابوالکلام نے اپنا واقعہ کچھ اس طرح بتایا کہ مذکورہ بالا مدرسے کے سینئر استاد حافظ شمشیر صاحب ممبئی چندے کے لئے آئے ہوئے تھے، چندہ لینے میرے والد کے پاس بھی آئے تو والد سے کہا کہ چندے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس بچے کو ہمارے حوالے کریں، میں اسے پڑھاؤں گا اور حافظ قرآن بناؤں گا، یہ بات والد نے منظور کرلی۔اس طرح میں ۹؍ سال کی عمر میں ممبئی سے مدرسہ قاسم العلوم نریاؤں پرانا بازار پہنچا۔ اس ادارے کی سربراہی اُس وقت مولانا عبدالحلیم ؒجون پوری کے خلیفہ قاری اختر عالمؒ مظاہری (جون پوری) کررہے تھے، اب ان کے صاحبزادے حافظ اظہر عالم ذمہ دار ہیں۔
حافظ ابوالکلام نے ملت اسکول (جوگیشوری ) میں ۷؍ سال تک تدریسی خدمات بھی انجام دیں، اس کے بعد ۱۳؍ برس قبل میراروڈمنتقل ہوگئے ،جہاں بلڈنگ مٹیریل سپلائی کرنے لگے مگر تراویح کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حافظ صاحب میرا بھائندر جمعیۃ علماء کے صدر اور دارالعلوم عزیزیہ کے سابق سربراہ مولانا مظہر عالم کے داماد ہیں۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے ۲۰۰۳ء میں فراغت حاصل کی اور افتاء بھی کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ تجارت ، ملازمت یا دیگر ذریعہ معاش اپنی جگہ اور قرآن کی تلاوت اور تراویح کا معمول اپنی جگہ۔ یہ ضروری نہیں کہ تدریس ہو تب ہی تراویح پڑھائی جاسکتی ہے بلکہ قرآن کریم تاحیات یاد رکھنے کی کس قدر فکر ہے، ایک حافظ قرآن اس کے لئے کس قدر اہتمام کرتا ہے، یہ سب سے اہم ہے۔حافظ ابوالکلام کے پانچ بچے ہیں۔ ۱۸؍ سال کی عمرکے بڑے بیٹے عبدالرحمن نے گجرات میں جامعۃ العلوم (گڑھا )سے عالمیت اورحفظ کیا اور امسال ایچ ایس سی کا امتحان بھی دیا جبکہ دیگر بچے زیر تعلیم ہیں۔
حافظ ابوالکلام کےمطابق ۳۱؍سال کے عرصے میںکوئی ایسا موقع نہیںآیا جب ایسا لگا ہو کہ تراویح پڑھانا مشکل ہوگا ،مصلے پرکیسے کھڑے ہوں گے یالقمہ ملنے کا خوف ہو ۔لاک ڈاؤن میں تراویح کا معمول برقرار رہا ۔ یہ سب کچھ اسی لئے ممکن ہوسکا کہ حفظ کرنے کےبعد سےآج تک تلاوت کے معمول میںفرق نہیں آیا ۔ اس کااندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ابھی ۱۰؍ روزہ تراویح میںقرآن کریم مکمل کیا ہےمگربلا ناغہ یومیہ تلاو ت کے معمول کےمطابق قرآن کریم کادَور پھر شروع ہوگیا۔