۲۳؍ویں سالانہ عرس شہید راہ مدینہ میں معین میاں کا خصوصی پیغام ۔ مشاہیر علما ء، مشائخ ، ائمہ مساجداورسیاسی لیڈران کی شرکت۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 12:16 PM IST | Mumbai
۲۳؍ویں سالانہ عرس شہید راہ مدینہ میں معین میاں کا خصوصی پیغام ۔ مشاہیر علما ء، مشائخ ، ائمہ مساجداورسیاسی لیڈران کی شرکت۔
’’مظلوم فلسطینیوں کی مدد اوران کی حمایت عالم اسلام کا ملی اوردینی فریضہ ہے ۔ ‘‘ بلال مسجد کے احاطے میںمنعقدہ۲۳؍ ویں سالانہ عرس شہید راہ مدینہ میں مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین نے یہ خصوصی پیغام دیا ۔اس موقع پر معین میا ںنے تعلیم کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ’’ تعلیم کے بغیر قوم وملت کی ترقی نہیں ہوسکتی، نئی نسل کو دینی اور عصری علوم سے آراستہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ میرے والد گرامی حضور شہید راہ مدینہ کا یہی مشن تھا کہ دینی اور عصری علوم کو عام کیا جائے۔ انہوں نے اسے عملی جامہ پہنا کرممبئی اور بیرون ممبئی بڑی تعداد میں مکاتب اور مدارس کی بنیا د ڈالی جہاں تشنگانِ علوم نبوت سیراب ہوکر اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں اور فروغ اسلام کے لئے جہدوجہد کررہے ہیں۔ آپ ؒنے حالات کے پیش نظر عصری علوم ، کمپیوٹرکی تعلیم کو داخل نصاب کیا۔اس کےعلاو ہ والد گرامی کا اولین مقصدیہی تھا کہ علوم دینیہ سے آراستہ ہونے والے عصری علوم سے بھی واقف رہیں تاکہ فکر معاش سے آزاد ہو کر دینِ متین کی بے لوث خدمت کرسکیں ۔ آج میں اسی مشن کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہوں ۔‘‘
خانقاہ فیض الرسول (براؤں شریف) کے سجادہ نشین مولاناغلام عبد القادر علوی نے معین میاں کی دینی ،سماجی، ملی اوررفاہی، خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’آپ بہت اچھی طرح اپنے والد گرامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قیادت کو نبھارہے ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے مثنیٰ میاں ؒ کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اوریہ پیغام دیا کہ ’’وہ ایک ایسے پیر تھے جو نہ صرف اپنے مریدوں بلکہ پوری قوم وملت کی تاحیات رہبری ونمائندگی فرماتے رہے ۔‘‘ مولانا عبدالقادر علوی نے مدارس اسلامیہ کے تعلق سے کہاکہ’’ مدارس اسلامیہ دین و سنت کے قلعے ہیں، ہمارے مذہب و عقائد کا تحفظ انہیں مدارس کے ذریعے ہورہا ہے، یہ اسلامی تشخص کی ضمانت ہیں، ہم ان کے بارے میں کوئی منفی فکرو اقدام برداشت نہیںکر سکتے۔‘‘شب میں ٹھیک ۲؍ بجے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا اور معین میاں کی رقت آمیز دعا پرتقریباتِ عرس ختم ہوئیں۔
عرس کی تقریبات کے موقع پررضااکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری،مولانا مفتی سید خلیق اشرف، سید ارشد زیدی،ڈاکٹر سید مناظر حسن،ڈاکٹر سید شفیق اشرف، مولانا مختار الحسن بغدادی ، مولانا محمد عمر صوفی ، مفتی منظر ، مولانا محمود علی ،مفتی اختر علی واجدالقادری، مولانا الطاف لطیفی کے علاوہ سیاسی لیڈران سچن بھائو اہیر ، سنجے نروپم، امین پٹیل،یوسف ابرہانی، ذیشان صدیقی، اروند ساونت،حاجی عرفات،بھائی جگتاپ، محمد عارف نسیم خان ،منوج جام ستکر، سنجے دینا پاٹل، جتیندر اوہاڑاور دیگر شخصیات موجود تھیں۔
عرس کی تقریبات کی سرپرستی مثنی میاں ؒ کے صاحبزادےسیدحسین اشرف نے کی جبکہ دیگر صاحبزادگان سید علی اشرف ،سید حسن اشرف، سید حسین اشرف بھی موجود تھے۔سیکوریٹی کا سخت بندو بست تھا۔ مولانا عبدالرحیم اشرفی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔شہیدِ راہ مدینہ انوار اشرف عرف مثنیٰ میاں کے دو کمسن پوتےسید حمزہ اور سید مدّثّرکے ساتھ دیگر شعراء راہی بستوی ،نسیم حبیبی کلکتوی، مولانا مقصود احمد بستوی، قاری مشتاق احمد تیغی،قاری قطب الدین، قاری اشفاق احمد ،قاری راشد اورقاری عبدالغنی سلطانپوری نے بھی بارگاہ رسا لت میںندرانۂ عقیدت پیش کیا ۔