ناندیڑ میں پیش آئے معاملے پرتنقید کی جارہی ہے کہ عوامی نمائندوں اور سرکاری افسروں کی یہ حرکت حساسیت اورسنجیدگی کی نفی کرتی ہے۔ صحافیوں نے جب اس پر استفسار کیا تو رکن پارلیمنٹ سنجے جادھو برہم ہوگئے، وزیراعلیٰ فرنویس نے کہا کہ اجلاس میں ایسی چیزوں سے گریز کرنا چاہئےْ۔
یہاں منعقدہ محکمہ جاتی خشک سالی جائزہ اجلاس کے دوران عوامی نمائندوں اور افسروں کے ذریعے خشک میوہ کھانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس معاملے پر ریاست بھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی دوران معاملے پر سوال کرنے والے صحافیوں پر پر بھنی کے رکن پارلیمنٹ سنجے (بنڈو) جادھو برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا، ’’کیا میں انسان نہیں ہوں ؟ بھوک لگی تھی، اسلئے کھا لیا۔ سو پچاس روپے کے خشک میوے کو لے کر رائی کا پہاڑ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
دریں اثنا، اس واقعے پر کسانوں اور عوامی حلقوں میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ناندیڑ ضلع کلکٹر دفتر کے پلاننگ بھون میں ریاستی وزیر زراعت دتاتریہ بھرنے کی صدارت میں مراٹھواڑا کی خشک سالی جیسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد کیا گیا۔ جس میں وزیر، اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے سامنے پانی کی بوتلیں، کاجو اور بادام کی پلیٹیں رکھی گئی تھیں۔ اس درمیان رکن پارلیمنٹ سنجے جادھو کے بادام کھانے کی ویڈیو کیمرے میں قید ہوگئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال ضمنی انتخابات: ممتا بنرجی نے ربیع الاسلام کو منا لیا
اجلاس میں موجود وزیر مملکت میگھنا بورڈیکر نے جب اس معاملے کی جانب توجہ دلائی تو میز سے خشک میوے کی پلیٹیں فوری طور پر وہاں سے ہٹا دی گئیں۔ وائرل ویڈیو کے حوالے سے میڈیا کی جانب سے سوال کیے جانے پر رکن پارلیمنٹ سنجے جادھو نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا، ’’کیا میں انسان نہیں ہوں ؟ چھوٹے بچوں کی طرح سوال کیوں پوچھتے ہیں ؟ مجھ پر تنقید ہو رہی ہے تو ہونے دیں۔ آپ میری فکر نہ کریں۔ سامنے رکھا ہوا تھا اور کسی کو بھوک لگی تو اس نے کھا لیا، اس میں اتنا بڑا جرم کیا ہوگیا؟ کیا خشک سالی ہے تو کوئی کچھ کھائے گا بھی نہیں ؟‘‘ اس اجلاس کے معاملے پر پہلے ہی حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان زوردار سیاسی تنازع جاری ہے۔ ایک طرف مراٹھواڑہ میں تقریباً ڈیڑھ ماہ سے بارش نہ ہونے کے باعث فصلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں اور کسان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں، تو دوسری جانب جائزہ اجلاس میں خشک میوے اڑانا اور اس پر عوامی نمائندوں کے جارحانہ بیانات نے دیہی علاقوں میں اس احساس کو مزید تقویت دی ہے کہ کسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے۔
اصل مسئلے پر توجہ دیں :جادھو
سنجے جادھو کے بقول ’’یہ معاملہ انتظامیہ کا ہے۔ کسی وزیر یا عوامی نمائندے نے وہاں کاجو بادام رکھنے کا مطالبہ نہیں کیا اسلئے ضلع کلکٹر سے پوچھیں کہ یہ چیزیں کیوں رکھی گئیں ؟ ۵۰-۱۰۰؍ روپے کے خشک میوے پر اتنا بڑا مسئلہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ قحط کے باعث کسان پریشان ہیں، اس بنیادی مسئلے پر بات کریں۔ غیر اہم موضوعات پر بحث کرنا میڈیا کا فضول دھندا ہے۔ اصل مسئلے پر توجہ دیں۔