• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: ۵؍ سال میں۴۷؍ لاکھ افراد کو کتوں نے کاٹا، ریبیز سے۱۳۴؍افراد ہلاک ہوئے

Updated: September 20, 2026, 10:44 AM IST | Mumbai

آر ٹی آئی سے حاصل ہونے والی معلومات کےمطابق یہ اعدادوشمار ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء تک کے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ریاست بھر میں آوارہ کتوں کا مسئلہ اب صرف سڑکوں اور عوامی مقامات تک محدود نہیں رہا۔ ریاست میں بڑی تعداد میں لوگ کتوں کے حملوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ناسک میں آوارہ کتوں کے مسئلے کو لے کر ہونے والے احتجاج کے درمیان سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار نے پورے مہاراشٹر میں کتوں کے کاٹنے کے سنگین مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ءکے درمیان ریاست میں ۴۷؍ لاکھ۳۷؍ ہزار۷۶۳؍افراد کوکتوں نے کاٹا۔ یہ اعداد و شمار حقِ اطلاعات قانون(آرٹی آئی)کے تحت حاصل ہونے والی معلومات سے سامنے آئے ہیں۔ اسی مدت میں کتے، بلی اور بندر کے کاٹنے کے بعد ریبیز کی وجہ سے۱۳۴؍ افراد کی موت بھی درج کی گئی۔ 
آر ٹی آئی سے حاصل معلومات کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں ممبئی کے اعداد و شمار سب سے زیادہ ہیں۔ پانچ سال کے دوران ممبئی میں ۵؍ لاکھ۲۹؍ ہزار۶۵۰؍ افراد کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے۔ ممبئی جیسے گنجان آبادی والے شہر میں سڑکوں، گلیوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی کے باعث شہریوں کی حفاظت پر مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اب تازہ اعداد و شمار نے اس تشویش کو ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ سامنے لا دیا ہے۔ جانوروں کے کاٹنے کے واقعات میں صرف کتے ہی شامل نہیں ہیں۔ ریاست میں بڑی تعداد میں لوگوں کو بلیوں اور بندروں نے بھی کاٹا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس ٹی کے ۱۲۵؍ بس اسٹینڈپر خواتین کیلئے خصوصی کمرہ

ان اعداد و شمار کو سامنے لانے کیلئے حقِ اطلاعات کے کارکن کملکر دروڑے نےریاستی حکومت سے معلومات طلب کی تھیں۔ آر ٹی آئی کے جواب میں ۲۰۲۱ء سے۲۰۲۵ء تک جانوروں کے کاٹنے سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے گئے۔ 
جب نپھاڑ نگرپنچایت کے سی او دفتر میں  احتجاجاًکتے چھوڑے گئے
یہ معاملہ ضلع ناسک کے نپھاڑ کا ہے، جہاں شہری آوارہ کتوں  کے آتنک سے پریشان ہیں۔ بارہا شکایتوں  کے باوجود نگر پنچایت انتظامیہ کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں  کی گئی۔ اسی بات سے ناراض ہوکر شیوسینا یوبی ٹی ضلع یوا سینا کے لیڈر وکرم رندھاوے، پارٹی کارکنان اور کچھ شہریوں  کو لے کر گرام پنچایت آفس پہنچے اور چیف آفیسر دھیرج بھامرے سے ملاقات کی۔ وہ اپنے ساتھ بورے میں ۴؍سے ۵؍کتے بھی لے گئے اور چیف آفیسر کو کھری کھری سناکر انہوں نے دفتر میں ہی یہ کتے چھوڑ دئیے کہ شہری انتظامیہ کو بھی احساس ہو کہ یہ مسئلہ کتنا سنگین ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہواتھا اوربیشتر صارفین نے اس اقدام پر تبصرہ کیا تھا کہ انتظامیہ شکایتوں کا ازالہ نہیں  کرے گا تو ایسا ہی کچھ ہوگا۔ 
۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء تک کے اعدادوشمار
۴۷۳۷۷۶۳
افراد کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے۔ 
۴۶۶۳۹۲
افراد کو بلیوں نے کاٹا۔ 
۴۳۹۵۵
 افراد بندروں کے حملے میں زخمی ہوئے۔ 
۱۳۴؍افراد
 ان جانوروں کے کاٹنے کے سبب ریبیز کا شکارہوکر لقمہ اجل بنے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK