وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ مئی میں پیش آیا، جب سیکوریٹی کمپنی ’اِریگولر‘کی جانب سے ٹیسٹ کیا جا رہا تھا۔
EPAPER
Updated: September 20, 2026, 11:15 AM IST | Washington
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ مئی میں پیش آیا، جب سیکوریٹی کمپنی ’اِریگولر‘کی جانب سے ٹیسٹ کیا جا رہا تھا۔
اے آئی پروگرام نت نئے گل کھلارہے ہیں۔ اب گوگل کے جیمینائی نے سیکوریٹی جانچ کے دوران ۳؍ کمپنیوں کا سسٹم ہیک کیا ہے۔ گوگل نے ۱۹؍ستمبر۲۰۲۶ء کو تصدیق کی ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل جیمنی نے سائبر سیکوریٹی کی صلاحیت جانچنے کیلئے کیے گئے ایک ٹیسٹ کے دوران تین کمپنیوں کے نظام ہیک کیے، تاہم ہر بار کارروائی مکمل کرنے سے پہلے خود رک گیا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ جیمنی کی جانب سے ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر حقیقی نظام تک رسائی حاصل کرنے کا پہلا معلوم واقعہ مئی میں پیش آیا، جب سیکوریٹی کمپنی ’اِریگولر‘کی جانب سے ایک ٹیسٹ کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ ان متعدد واقعات میں تازہ ترین ہے جن میں اے آئی ماڈلز نے آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر دیگر کمپنیوں کے نظام تک رسائی حاصل کی۔
ٹیسٹ کے دوران جیمنی کو ایک فرضی کمپنی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا کام دیا گیا تھا، تاہم اسے انٹرنیٹ تک غیر مناسب رسائی حاصل ہوگئی۔ پہلے واقعے میں ماڈل نے ایک پاس ورڈ کا اندازہ لگا کر ایک حقیقی کمپنی کی سروس تک رسائی حاصل کرلی۔
یہ بھی پڑھئے: ہوانا، کیوبا: بجلی کا بحران شدید تر، واحد مسجد مسلمانوں اور ضرورت مندوں کا سہارا
گوگل کی سیکوریٹی انجینئرنگ کی نائب صدر ہیدر ایڈکنز نے الجزیرہ کے جان ہینڈرین کو بتایا کہ دیگر واقعات میں ماڈل نے آن لائن دستیاب عوامی معلومات تلاش کیں اور ایسے کریڈنشیئل کا اندازہ لگایا جن کے ذریعے ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی تھی جنہیں وہ ٹیسٹ کا حصہ سمجھ رہا تھا۔ کمپنی کے مطابق ایسا تین مرتبہ ہوا اور ہر مرتبہ ماڈل نے کارروائی مکمل کرنے سے پہلے خود کو روک لیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اِریگولر نے جولائی کے آخر میں گوگل کو ان ہیکنگ واقعات سے آگاہ کیا تھا۔ گوگل نے کہا کہ یہ رویہ ماڈل کے غلط سمت میں جانے یا ماڈل مس الائنمنٹ کی مثال نہیں تھا اور اسے عوامی طور پر ظاہر کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی، کیونکہ جیمنی کے حفاظتی اقدامات نے اپنا کام کیا تھا۔ اِریگولر سے متعلق اسی نوعیت کے واقعات اس سے قبل میٹا، اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی جانب سے بھی ظاہر کیے جا چکے ہیں۔ اِریگولر نے کہا ہے کہ وہ اے آئی سائبر سکیورٹی ٹیسٹ محفوظ طریقے سے انجام دینے کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ جیمنی کے برعکس، اینتھروپک کے کلاڈ ماڈل نے اس وقت خود کو نہیں روکا جب اسے معلوم ہوا کہ وہ حقیقی کمپنیوں کے نظام تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔ اینتھروپک کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات سامنے لانے سے قبل اوپن اے آئی نے انکشاف کیا تھا کہ اس کے ماڈلز نے ٹیسٹنگ کے دوران انٹرنیٹ تک غیر مناسب رسائی حاصل کی اور قابو سے باہر ہو گئے۔