Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوئنز لینڈ میں نفرت انگیز تقریر قانون پر تنازع، مظاہرین آئینی چیلنج کیلئے تیار

Updated: April 20, 2026, 6:59 PM IST | Canberra

آسٹریلیا کی ریاست کوئنز لینڈ میں نئے نفرت انگیز تقریر کے قانون کے خلاف فلسطینی حامی مظاہرین نے آئینی چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جسٹس فار فلسطین میگن جِن کے مطابق حالیہ گرفتاریوں کے باوجود مظاہرین نے قانونی حدود میں رہ کر احتجاج کیا۔ اس معاملے نے آزادیٔ اظہار اور نفرت انگیز تقریر کے درمیان توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست کوئنز لینڈ میں نفرت انگیز تقریر سے متعلق متنازع قانون کے خلاف مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں فلسطینی حامی گروپوں نے اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا عہد کیا ہے۔ مقامی نشریاتی ادارے ایس بی ایس نیوز کے مطابق، جسٹس فار فلسطین میگن جِن کے کارکنوں نے اتوار کو برسبین میں ریاستی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت ہوا جب ایک روز قبل کم از کم ۲۰؍ مظاہرین کو مبینہ طور پر ممنوعہ نعرے لگانے یا دکھانے پر گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ مزید دو افراد کو اگلے دن حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد کو مجموعی طور پر متعدد الزامات کا سامنا ہے، جن میں ممنوعہ جملوں کی نمائش اور انہیں پڑھنا شامل ہے۔ نئے قانون کے تحت ایسے اظہار پر دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنوبی سوڈان قحط کے دہانے پر، اقوام متحدہ کا ہنگامی انتباہ

گروپ کے لیڈر سبی عواد نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون خود یہ اجازت دیتا ہے کہ اگر اظہار ’’مفاد عامہ‘‘ میں ہو اور حالات کے مطابق معقول ہو، تو اسے ایک جائز بہانہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، بیشتر مظاہرین نے اسی قانونی دائرے میں رہ کر احتجاج کیا۔ یہ قانون اس سال کے اوائل میں منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت ’’دریا سے سمندر تک‘‘ اور ’’انتفادہ کو عالمی سطح پر بنائیں‘‘ جیسے نعروں کو یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر قرار دیا گیا۔ ریاستی حکومت نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون یہودی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ڈیوڈ کریسافولی نے کہا کہ یہ قوانین ’’واضح مطالبات کے جواب‘‘ میں لائے گئے ہیں اور ان کا مقصد نفرت انگیز رویوں کو روکنا ہے۔

تاہم، اس قانون کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں تنقید کا سامنا بھی ہے۔ آسٹریلین پروگریسو پارٹی کے ریاستی لیڈر ایڈورڈ کیرول، جو خود گرفتار افراد میں شامل تھے، نے کہا کہ یہ قوانین ’’یہودی افراد کے تحفظ کے بجائے آزادیٔ اظہار کو محدود کرتے ہیں۔‘‘ یہ تنازع ایک وسیع تر عالمی بحث کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حکومتیں نفرت انگیز تقریر کے خلاف سخت قوانین نافذ کر رہی ہیں، جبکہ ناقدین اسے شہری آزادیوں، خاص طور پر آزادیٔ اظہار، کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لوزیانا فائرنگ: باپ نے ۸؍ بچوں کاقتل کردیا، پولیس کے اقدام میں ملزم ہلاک

قانونی ماہرین کے مطابق، آئینی چیلنج اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا ریاستی قانون آزادیٔ اظہار کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے یا نہیں۔ اگر عدالت نے مظاہرین کے حق میں فیصلہ دیا، تو یہ نہ صرف کوئنز لینڈ بلکہ دیگر خطوں میں بھی ایسے قوانین پر اثر ڈال سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK