تانبے کے دام میں بھی مہنگائی کی ریکارڈسطح پر گامزن

Updated: June 08, 2021, 12:26 PM IST | Agency | New Delhi

قیمت ۷۳۸ء۷۰؍ روپے فی کلو گرام کی قیمت درج، ایسی الیکٹرانک ا شیاء اور دیگر لوازمات جس میںاس دھات کا استعمال ہوتا ہے وہ بھی مہنگےہو جائیں گے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

  تانبے کی  مانگ بڑھنے سے اس کے دام میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا  ہے۔ اب اس کے سبب ایسی الیکٹرانک اشیاء اور دیگر لوازمات جن میں اس دھات کااستعمال ہوتا ہے، وہ بھی مہنگی ہوجائیں گی۔ گزشتہ سال مارچ کے دوران ملک میںکورونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد طلب میںکمی کی وجہ سے دیگر اشیاء کی طرح تانبےکی قیمت میں بھی زبردست گراوٹ آئی تھی۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج( ایم سی ایکس) میں اُس وقت تانبے کی قیمت ۳۳۵؍ روپے فی کلو  درج کی گئی تھی۔ اس کے بعد معاشی سرگرمیاں تھوڑی بہت بحال ہونے سے دسمبرکے اختتام پراس کے دام ۵۹۴ء۱۵؍ روپے فی کلو  پرپہنچ گئے تھے۔  نئے سال کے آغاز میں بھی قیمتوں میں کچھ اضافہ درج کیا گیا لیکن مارچ کے بعد کورونا کی دوسری لہر کے سبب تانبے کی قیمت مستحکم  رہی تھی۔ذرائع کے مطابق اب کورونا کی دوسری لہر کا زور کم ہونے اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے کی امیدوں کے مدنظرجون کے ابتدائی ایام میں ہی تانبےکےدام ۷۳۸ء۷۰؍ روپےفی کلوگرام پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بازارکی رجحان کے مدنظر  تانبے کی قیمت میں ریکارڈ سطح  پراضافہ جاری رہے گا۔ تانبے کا سب سے زیادہ  ۶۵؍ فیصد استعمال الیکٹرانک سازوسامان کی تیاری میں ہوتا ہے، اس میں وائر، گھریلو الیکٹرانک  آلات، موٹر اور کارسازی وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں تعمیراتی شعبہ میں اس کا حصہ ۲۵؍ فیصد ہے اور دیگر شعبوں میں بھی یہ ۷؍ تا ۳؍ فیصد مستعمل ہے۔
  بازار ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے تحفظ کیلئے ٹیکہ کاری کی مہم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے، مختلف ممالک میں معاشی سرگرمیاں بھی مرحلہ وار طور پر بحالی کی جانب گامزن ہے۔ عالمی سطح پراقتصادی حا لات کااندازہ کا آسانی سے تانبے کی قیمت سے لگایا جاسکتا  ہے۔ خستہ معاشی حالات میں تانبے کی مانگ کم ہو نے سےاس کی قیمت بھی کم ہوجاتی ہے لیکن جیسے ہی معیشت بحالی طرف لوٹنے لگتی توتانبے کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور دام بھی بڑ ھنے  لگتے ہیں۔ چین میں بھی صنعتی تانبے کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں  عالمی  طور پرتانبے کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ تیار کرنے والے ملک چلی نے بھی اپنی کان کنی کی سرگرمیوںپر ۷۵؍ فیصد تک ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح دیگر ممالک میں بھی طلب میں اضافہ ہونے سے تانبے کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ اس سال لندن میٹل ایکسچینج (ایل ایم ای) میں تانبے کی قیمت میں ۳۴؍فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مغربی ممالک اور دیگر یورپی بازار میں بھی تانبے کے دام   میں اضافہ  درج کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK