کورونا کے سبب فاقہ کشی کا سامنا کرنے والوں کی تعدادمیں اضافہ ،اقوام متحدہ کی رپورٹ

Updated: July 14, 2021, 7:11 AM IST | new york

جنگ زدہ علاقوں کے عوام سب سے زیادہ متاثر،اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ ۲۰۳۰ء تک عالمی سطح پر بھوک یا فاقہ کشی پر مکمل طور پر قابو پا لیا جائے

Hunger was a problem, Corona made it even bigger!Picture:PTI
بھوک مسئلہ تھی ہی ،کورونا نے اسے مزید بڑامسئلہ بنادیا تصویرپی ٹی آئی

اقوام متحدہ کی۱۲؍ جولائی پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کورونا وائرس کی وبا نے عالمی سطح پر فاقہ کشی کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں بھی کافی اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے مطابق گرچہ بھوک سے دوچار افراد کی تعداد میں عالمی سطح پراضافہ ہوا ہے تاہم جنگ زدہ علاقوں کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ۲۰۳۰ء تک عالمی سطح پر بھوک یا فاقہ کشی پر مکمل طور پر قابو پا لیا جائے اور ہر شخص کو پیٹ بھرنے کے لیے آسانی سے کھانا میسر ہو ۔اس وبا کی وجہ سے۲۰۲۰ء میں اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور اس طرح اس کی ان کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔
رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
 اقوام متحدہ کی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ۲۰۱۹ء  کے مقابلے میں ۲۰۲۰ء میں عالمی سطح پر تقریباً پونے ۱۲؍ کروڑ مزید افراد کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح بھکمری کی شرح میں تقریباً۱۸؍ فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔اس رپورٹ کے تخمینے کا اگر اوسط بھی لیا جائے تو مجموعی طور پر۷۶۸؍ ملین افراد فاقہ کشی سے دو چار ہوئے جو دنیا کی تقریباً ۱۰؍ فیصد آبادی کے برابر ہے۔ رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین کے مطابق ۲۰۲۰ء میں فاقہ کشی کی شرح نے شرح پیدائش کی شرح کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
 فوڈ سیکوریٹی اور غذائیت سے متعلق سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۲۰ء میں دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص  (یعنی ۲۳۷؍کروڑ) لوگوں کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں رہی اور جس میں گزشتہ صرف ایک برس کے  اندر۳۲۰؍  ملین افراد کا اضافہ ہوا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق خطہ افریقہ میں سب سے زیادہ فاقہ کشی  میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں اس وقت تقریباً۲۱؍ فیصد آبادی کم غذائیت کا شکار ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ سے پانچ برس سے کم عمر کے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بچوں میں جسمانی افزائش میں کمی پائی گئی جن کا قد ان کی عمر کے حساب سے کم ہے۔  اسی طرح سے ساڑھے ۴؍ کروڑ بچوں کا وزن ان کے قد کے لحاظ سے کم پا یا گیا۔
کووِڈ کے اثرات
 اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے معاشی صورت حال پر کیا اثرات مرتب ہوئے اس کا ابھی تک مکمل جائزہ نہیں لیا جا سکا ہے تاہم اس سے تقریباً تمام کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک متاثر ہوئے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق   اب صورت حال یہ ہے کہ اس وقت تک بھی تقریباً ۶۶؍ ملین افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہوں گے۔ 

un report Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK