Updated: March 18, 2026, 8:09 PM IST
| Kyiv
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے عالمی طاقتوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز سے نمٹنے کیلئے ۲۰۰؍ سے زائد ماہرین مشرق وسطیٰ بھیجے گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کے اندر بھی جنگی اخراجات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر ملکی ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کئے جا سکتے تھے۔
سینیٹر برنی سینڈرز۔ تصویر: ایکس
(۱) زیلنسکی: ایرانی ڈرونز سے نمٹنے کیلئے ۲۰۰؍ سے زائد ماہرین بھیجے گئے
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کیلئے ۲۰۰؍ سے زائد ماہرین کو مشرق وسطیٰ بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ڈرون ٹیکنالوجی جدید جنگ میں ایک اہم عنصر بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے خصوصی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ زیلنسکی کے مطابق یہ ماہرین دفاعی نظام کو بہتر بنانے اور ڈرون حملوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ مختلف ممالک کی اس طرح کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ ایک علاقائی تنازع سے بڑھ کر عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں سے ہمدردی، اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ: امریکی سروے
(۲) برنی سینڈرز نے ایران جنگ کے اخراجات پر سخت تنقید کی
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کے اخراجات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رقم امریکہ کے اندرونی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ’’اربوں ڈالر جنگ پر خرچ کرنے کے بجائے صحت، تعلیم اور رہائش جیسے شعبوں پر لگائے جا سکتے تھے۔‘‘ سینڈرز کے مطابق جنگی اخراجات نہ صرف معیشت پر دباؤ ڈالتے ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے اور عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہئے۔ اس طرح کی تنقید ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ کے اندر جنگی پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ یہ تنقید مستقبل میں امریکی پالیسی پر اثر ڈال سکتی ہے۔